تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / وڈے صحافیوں کی عمران خان سے ملاقات ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

وڈے صحافیوں کی عمران خان سے ملاقات ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

رئوف کلاسرا ، عامر متین اور ارشاد بھٹی اسلام آباد کے جید صحافی ہیں ۔ عامر متین اور کلاسرا سے میری ایک ایک ملاقات ہوچکی ہے اور ارشاد بھٹی سے ہونے والی ہے ۔ ایک دفعہ عامرمتین نے روحی ٹی وی کے لیے مجھے لاہور سے اسلام آباد آجانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا یہاں لوگ مفتے میں صحافی بن جاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے رپورٹروں کے بڑے بڑے فلوک لگ جاتے ہیں لہزا آپ تنخواہ نہ دیکھیں بڑے

بڑے فوائد دیکھیں ۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ اسلام آباد میں کس کس صحافی نے عامر متین کے مشورے پر عمل کیا اور اعلی رتبہ پایا کون محروم رہا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عام آدمی عامر متین سے واقف رئوف کلاسرا کے پروگرام میں ہی ہوا ۔ اعلی ظرف دوست اسی طرح دوستوں کے احسانات کا قرض اتارا کرتے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عمران سے بہت چھبتے ، گہرے اور پیشہ ورانہ عظمت کے عکاس سوال کرتے ہوے عمران خان سے ہمکلام ہونے کے تفاخر سے سرشاری کانشہ جس طرح ان زیرک صحافیوں کے سر چڑھ کر بولا اس کی مثال ممکن نہیں ۔ ایک دفعہ رافع محمود نے گھر کی منتظم خالہ سے پوچھا کہ اماں کیا یہ پوڈلز ( چھوٹے کتے بڑے بالوں والے ) ہماری سی ای او کیساتھ اس کے بستر پر ہی سوتے ہیں ۔ خالہ بولی ہاں میڈم کیساتھ سوتے ہیں لیکن تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ رافع بولا ! اماں مجھے کتوروں کی خوشی سے لگ رہا ہے ۔ ستر سالوں سے عزابوں کا شکار ملک اس وقت جس مشکل ترین صورت حال سے گزر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن اللہ نے عمران خان کی شکل میں جس احساس ذمہ داری والے ، پختہ عزم اور حوصلے والے انسان کو موقع دیا ہے قریہ قریہ اس کی کامیابی کی دعائیں مانگ رہا ہے ۔ ایسے میں اگر وہ صحافی جنہوں زندگی بھر جھوٹ کو جھوٹ اور سچ کو سچ کہنے میں گزاری اس صدیوں میں کبھی کبھار پیدا ہونے والے قبیلے کے انسان کا دھیان پاکستان کی ہچکیاں لیتی معیشت اور نظام کے بگاڑ سے ہٹا کر خاور

مانیکا اور ہیلی کاپٹر کے خرچے پر مبزول کروا کر بغلیں بجاتے نکلیں گے تو پھر ان میں اور ڈان گروپ کے بین الاقوامی دانشوروں میں کیا فرق رہے گا ۔ یہ وقت ہے کہ عمران خان کاساتھ پورے قومی شعور اور دانش کے ساتھ دیا جاے ۔ مجھے خوشی ہوتی اگر میرے یہ پسندیدہ صحافی عمران خان سے پوچھتے کہ کیا آپ نے کسی کی ذمہ داری لگائی ہے کہ آنے والے امریکی عمائدین آپ کو اپنے ملک کے مفاد میں رام کرنے کی کیا حمکت عملی بنا سکتے ہیں ۔ ان سے کس موضوع

پہ کیا تیاری کی ہے آپ نے ۔ پاکستان کے اندر کون کس ملک کے مفاد کے لیے آپ کی حکومت کو کس کس طرح کمزور بنا سکتا ہے ۔ اب اگر میرا پیارا بھائی روئف کلاسرا عمران خان سے پوچھنے بیٹھ جاے کہ میانوالی سے لئیے جانے والی سڑک پہ کہیں کہیں آباد کلاسرا قبیلہ میٹھے چاول اس قدر کیوں پسند کرتا ہے تو ہوسکتا ہے کہ میں اور میرے جیسے محدود سوچ کے مالک تو خوش ہوجائیں لیکن یہ بات یقینا” نادانستگی میں پاکستان کے دکھوں کی سنجیدگی پر وار کے برابر ہوگی ۔ میں نے تو میر نیازی صاحب سے سیکھا ہے کہ بڑے آدمی سے چھوٹا اور چھوٹے آدمی سے بڑا سوال پوچھنا صحافیوں کا نہیں بلکہ عطاءالحق قاسمیوں کا کام ہوا کرتا ہے ۔ میرے جیسے بے بسوں کا حال تو پہلے ہی ایسا ہے
لئیے بیٹھا ہوں لاشیں بازووں کی
کف افسوس ملنا چاہتا ہوں
اور اب اگر جیسے لوگ بھی ہماری بے جسی میں اضافہ کرنے لگ پڑے تو خوابوں کی کرچیوں سے آنکھیں لہولہان کر لینے کے علاوہ شاید کچھ بھی باقی نہ بچے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *