تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / بابر اعوان نے عمران خان کا سر اونچا کردیا ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

بابر اعوان نے عمران خان کا سر اونچا کردیا ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

آج سے پہلے یہ کب ہوا ہے کہ کوئی مقتدر اپنی ذات اور کردار پر اٹھنے والی انگلی سے پہلے اٹھ کر مسند اقتدار کو پاوں کی نوک پر رکھتا کسی مرد قلندر کی طرح میدان میں آئے اور کہے کہ تو تیر آزما ہم جگر آزماتے ہیں ۔ یہاں تو ڈاکو آنکھوں کے سامنے لوٹتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ثبوت ہے تو لاو ۔ بابر اعوان نے آج اس ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کی اینٹ رکھ دی ہے اور اب اس پر ایسا پاکستان تعمیر ہوگا

جو آج تک نہیں ہو سکا تھا ۔ اس نے جس طرح عمران خان کے ویژن کا بھرم رکھا ہے یہ بھی ایک مثال ہے ۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے تو میں نےاس مرد طرح دار کو اتنے قریب سے دیکھا کہ مجھے لگا میں تو اسے صدیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہوں ۔ جس شخص کی زندگی کا اعزاز تفسیر قرآن کا بیان ہو ، جو اس جنگل و بیابان میں انسانی قدروں کو اپنے کشادہ سینے میں آباد کیے بیٹھا ہو اور جو زندگی کی حقیقتوں کو اپنی فراخ پیشانی پر سجائے رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو اس کے لیے بدیانت حکمرانوں اور وطن فروش مسند نشینوں کے جھوٹے الزامات چٹکی بھر خاک کی بھی حیثیت نہیں رکھتے ۔ میں عمران خان سے پیار کرتا ہوں اور جس دن سے بابر اعوان عمران خان کے ساتھ ہوئے مجھے لگا جیسے شفقت بھرا کوئی درخت اور حفاظت آمیز کوئی سائبان اس کے سر پہ سایا فگن ہے ۔ میرے جیسا مردم بیزار اور انسانوں سے مایوس اور جعلی معاشروں سے ناراض انسان بابراعوان سے مل کر مایوسی سے دوبارہ یقین کا سفر اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے مزاج ، علم اور کردار کا معجزہ ہی تو ہے ۔ اس ملک میں ریفرنس کی تاخیر (جو کہ ہوئی بھی نہیں ) کو الزام بنایا جارہا ہے جہاں درجنوں انسانوں کو قتل کردئیے جانے جیسے گھناونے جرائم کے کیس ہی نہیں لگتے ۔ ستر سالوں سے انصاف ، دیانت ، فرض اور حق کی ادائیگی میں تاخیر کے مجرم اس تاخیر کو جرم بنانے پر تلے ہوئے ہیں جو ہوئی ہی نہیں ۔ ایک لحاظ سے تو یہ اچھا ہی ہوا کہ اب تاج و تخت کو جوتے کی نوک پر

رکھنے اور اپنے آپ کو ہنسی خوشی قانون کے کٹہرے میں لانے کا رواج پڑے گا ۔ ایسا رواج جس کی بنیاد بابر اعوان نے رکھ دی ہے اور ہاں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان آپ کو خاص طور پر مبارک ہو کہ آئین و قانون کی پاسداری کے اس عمل کا یہ اعزاز بھی آپ ہی کے ایک سپاہی کے حصے میں آیا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *