تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / یہ جنگ ہماری نہیں تھی تو کیوں لڑنا پڑی ،جان من رئوف کلاسرا کے شکوے کا جواب ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

یہ جنگ ہماری نہیں تھی تو کیوں لڑنا پڑی ،جان من رئوف کلاسرا کے شکوے کا جواب ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

عمران خان کی 6 ستمبر کی تقریر کا کسی اور کو فائدہ ہوا ہو یا نہیں لیکن ہمارے دوست جان من رئوف کلاسرا کو ایک ایسا سوال کرنے کا موقع ضرور مل گیا جو ان گنت دفعہ اٹھایا گیا اور اتنی ہی دفعہ جواب بھی زیر بحث لایا گیا ۔ میں حیران ہوں کہ جان من رئوف کلاسرا نے جہاد افغانستان پر اٹھنے والے سوالات کی تاریخ کو نظر انداز کرکے آج ایک ایسے لیڈر کی زبان سے نکلے ہوے سچ کو بنیاد بنا کر آج کے

سپہ سالار کو مشکل میں ڈالنے کے لیے ایسے موقع پر یہ سوال کیوں اچھال دیا ہے جس کا جواب آج بطور خاص زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر دیا جارہا ہے ۔ اگر جان من رئوف کلاسرا کو میں ذاتی طورپر جانتا نہ ہوتا تو یقینا” اس سوال کو پاکستان سول ملٹری ریلیشن پر ایک خوفناک وار سمجھتا ۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عمران خان کو فوج کی طرف سے دی جانے والی عزت ایک خاص طبقے سے ہضم نہیں ہورہی لیکن لگتا ہے ان کو وزیراعظم کی طرف سے دوٹوک انداز میں فوج کیساتھ کھڑا ہونا بھی بری طرح کھل رہا ہے ۔ جان من رئوف کلاسرا سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ کیا واقعی انہیں نہیں پتہ کہ آج تک امریکہ کا ڈو مور کی رٹ لگائے رکھنے کا کیا مطلب ہے ؟ اور کیا ان کویہ بھی پتہ نہیں کہ پہلے جنرل باجوہ اور پھر اب عمران خان نے جس دلیری اور دانائی سے امریکہ کو نو مور کہا ہے پہلے ایسا صرف ذوالفقار علی بھٹو کے حصے میں آیا تھا جس کی جو سزا ان کو دی گئی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ میں کتنے ہی فوجی ترجمانوں اور تجزیہ کاروں کا اعتراف دکھا سکتا ہوں جنہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں فوج سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن موجودہ فوجی قیادت نہ صرف ان غلطیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتی بلکہ تلافی اور ازالے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاے ہوے ہے ۔ جنرل حمید گل مرحوم کا طالبانائزیشن کے حوالے اعتراف ہمیں یاد رکھنا چاہیے اور جنرل باجوہ کا پہلا خطاب بھی جس میں انہوں نے پوری دنیا پر واضح کردیا تھا کہ پاکستان کو کمزور مت سمجھا

جائے ۔ ایسے غیردانشمندانہ سوالات اٹھا کر پاکستان کے محافظوں کے دلوں اور شہدا کے ورثاء کے دماغوں میں شک وشبے کا حاشیہ بھرنے کی کوشش بزات خود آپ کی صحافت پر کسی سوالیہ نشان سے کم نہیں ۔ کیا آپ کو امریکی جرنیل کے یہ الفاظ یاد نہیں جس نے کہا تھا کہ اب ہمیں براہ راست جنگوں کی ضرورت نہیں بلکہ اب ہم ملکوں کو ان کے اندر سے چیر پھاڑ کر تباہ کردیں گے اور کیا آپ کو یہ بھی احساس نہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار کرنے والے امریکہ ، بھارت

اور اسرائیل نے یہاں کیا کیا گھناوناء کھیل کھیلا ہے ۔ کیا غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز کے در پردہ مقاصد سے آپ ناواقف ہیں ۔ کیا امتیاز عالم سے لیکر وسعت اللہ خان جیسے صحافیوں کا کردار آپ سے ڈھکا چھپا ہے ۔ کیا ہمارے چینلز ، آپ اور میں جن کی آج بھی ملازمت فرمارہے ہیں ان کا رول آپ کے سامنے نہیں ہے ؟ آج تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کیساتھ جو کھلواڑ کھیلا گیا ہے کیا وہ اس جنگ میں پاکستان کے ان دشمنوں کے حق میں نہیں ڈیزائن کی جاتی رہیں

جو ہماری نہیں تھی ۔ لیکن جن دلیر جوانوں نے اس اس جنگ میں اپنی جانیں دے کر ان کے مزموم مقاصد پورے نہیں ہونے دئیے یہ ہے ان کی قربانیوں کا ثمر ۔ لیکن اس بات کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنرل ضیاء الحق نے جہاں روس اور امریکہ کی جنگ میں ہمیں جھونکا وہاں اسی تعاون کی آڑ میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام کامیابی تک پہنچایا ۔ میری آہ سے گزارش ہے جان من رئوف کلاسر کہ آپ جیسے محب وطن صحافی اب اپنی صحافیانہ قابلیت اس بات پر نظر رکھنے میں صرف

کریں کہ عمران خان کے توسط سے چیرٹی کے زریعیے حاصل کیا گیا پیسہ ، پاکستان کے بچے کھچے اثاثے اور جائدادیں بیچ کر حاصل کی گئی دولت اور لٹیروں سے واپس لیا گیا لوٹ کا مال کہاں لے جایا جاتا ہے ۔ وہی ورلڈ بینک جو بھارت اور ہندوستان کے درمیان پانی کے تنازعے میں بھارت کی طرف وزن ڈالتا ہے 2025 تک پاکستان میں پانی کی کمی رپورٹیں شائع کرکے درحقیقت اپنے کون سے مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے ۔ وہ کون دوست اور ہمدرد ہے جس نے یہ اچانک پانی

کے ایشو کو ہائی لائٹ کیا کہ مدتوں سے نیند میں ڈوبی ریاستی مشینری جاگ اٹھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے اگر پاکستان دشمنوں کے عزائم اور حکمت عملی جاننا اور سمجھنا ہو تو جیو نیوز ضرور دیکھتا ہوں ۔ میری گزارش ہے کہ آپ بھی ایسا ضرور کیا کریں تاکہ آپ چوکس رہیں کہ کہیں آپ نادانستگی میں ان کے مخصوص تجزیہ نگاروں کے ساتھ ایک پیج پر تو نہیں آگئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *