تازہ ترین
ہوم / پاکستان / ’’اسحاق ڈار کا کوئی قصور نہیں‘‘ (ن) لیگ کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا اسد عمر کے اعترافات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی

’’اسحاق ڈار کا کوئی قصور نہیں‘‘ (ن) لیگ کے پاس بھی اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا اسد عمر کے اعترافات نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی ٗ پاکستان نے آج تک آئی ایم ایف سے قر ض کے 18معاہدے کئے سات فوجی حکومتوں کے دور میں ہوئے ٗ باقی پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کے ادوار میں ہوئے ٗ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا ٗپاکستان کے ذمے 95 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض ہے ٗہمارے پاس بھی اس وقت آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا ٗ جب حکومت ختم ہو گی تو حالات ماضی سے مختلف ہونگے ٗآئی ایم ایف کے ساتھ برآمدات کے فروغ کیلئے فریم ورک معاہدہ کریں گے ٗسعودی عرب سے تاخیری ادائیگیوں پر تیل فراہم کرنے کی بات ہو رہی ہے ٗہم نے اپنی برآمدات بڑھانی ہیں ورنہ قرض کے دلدل سے باہر نہیں آ سکتے، وزارت خزانہ میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ہفتہ کو یہاں وزیر خزانہ اسد عمر نے پریس کانفرنس کی جس میں ان کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر پرانے بیانات دکھائے گئے جن میں انہوں نے آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے بیل آؤٹ پیکج کی حمایت کی تھی۔

اسد عمرنے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی عمران خان نے کی ہو گی میں نے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات کبھی نہیں کی۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان نے آج تک آئی ایم ایف سے قرض کے 18 معاہدے کیے ہیں جن میں سے 7 فوجی حکومتوں کے دور میں ہوئے اور باقی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا جاری کھاتوں کا خسارہ ہر ماہ 2 ارب ڈالر جا رہا ہے اور ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر گرتے جارہے ہیں، ستمبر 2018 میں زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب 40کروڑ ڈالر پر آگئے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار کا اس میں قصور نہیں ٗ ہمارے پاس بھی اس وقت آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا ٗجب حکومت ختم ہو گی تو حالات ماضی سے مختلف ہونگے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا اور ایران پر پابندیاں درآمدات میں اضافے کا باعث بنیں، ایسی صورت حال میں کسی نہ کسی سے بیل آوٹ ناگزیر تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ حکومت بھی آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کیلئے مذاکرات کرنے گئی تھی ٗہم نے آئی ایم ایف سے بات چیت میں تاخیر نہیں کی، اس معاملے پر سب سے مشاورت کرنی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذمے 95 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض ہے، ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر گزارا ہو جائے مگر مشکل زیادہ ہو گی۔آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسد عمرنے کہا کہ امریکی بیان بالکل غلط ہے کہ سی پیک قرضوں کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے سی پیک سمیت پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف جانے کے اعلان کے ساتھ ہی اسٹاک مارکیٹ اگلے روز 600 پوائنٹس بڑھی۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے قرضوں کے حوالے سے سخت شرائط سے متعلق بیان پر وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کیا کہا ہے تاہم ہم پر چین اور سعودی عرب سمیت کسی نے قرض کے لیے سخت شرائط نہیں رکھیں۔اسد عمر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے دوست ممالک کے پاس گئے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے پیکیج کیلئے قومی سلامتی سمیت اگر کوئی بھی ناقابل قبول شرائط سامنے رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے، اس نے سی پیک سمیت پاکستان کے ذمے واجب الادا مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے، ہوسکتا ہے اس سے قرض لیے بغیر گزارا ہوجائے مگر مشکل زیادہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے تاخیری ادائیگیوں پر تیل فراہم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کہا کہ غریب ترین افراد کے لیے سبسڈی ضروری ہے، ہم نے اپنی برآمدات بڑھانی ہیں ورنہ قرض کے دلدل سے باہر نہیں آ سکتے،

آئی ایم ایف کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے فریم ورک معاہدہ کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں اسد عمرنے کہا کہ کرنسی شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا اسٹیٹ بینک کا کام ہے وزارت خزانہ کا نہیں۔ایک سوال پر وزیر خزانہ اسدعمر نے کہا کہ چین پہلے ہی کرپشن کیخلاف اقدامات کر رہا ہے ٗچین نے کرپٹ وزیروں کو پھانسیاں دیں۔ انہوں نے کہاکہ وزارت خزانہ میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔ایک اور سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران پر پابندیوں سے آئل کی قیمتیں بڑھیں گی جس سے پاکستان کو مزید نقصان ہو گا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ن لیگ کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار کا اس میں قصور نہیں ٗ ہمارے پاس بھی اس وقت آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا ٗجب حکومت ختم ہو گی تو حالات ماضی سے مختلف ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *