تازہ ترین
ہوم / انٹرنیشنل / بھوک کی شدت سے بلکتی شیر خوار بچی کو دیکھ کر ایئرہوسٹس کی ممتا چھلک پڑی،پیکٹ کادودھ نہ ہونے پر اپنا دودھ پلادیا

بھوک کی شدت سے بلکتی شیر خوار بچی کو دیکھ کر ایئرہوسٹس کی ممتا چھلک پڑی،پیکٹ کادودھ نہ ہونے پر اپنا دودھ پلادیا

منیلا (نیوز ڈیسک)دنیا بھر میں اس وقت ایک فلپائنی ایئر ہوسٹس کو اُس کے جذبۂ ہمدردی کی بِنا پر بہت زیادہ پذیرائی مِل رہی ہے۔ 24 سالہ پتریشا اورگینو فلپائن ایئر لائنز میں فلائٹ اٹینڈنٹ کی خدمات نبھاتی ہے۔ چند روز قبل فلائٹ نے اُڑان بھری تو ایک مسافر خاتون کی گود میں موجود شیر خوار بچی نے اچانک بِلکنا شروع کر دیا۔اس حوالے سے اورگینو کا کہنا تھا ’’ ٹیک آف کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میں نے ایک ننھی بچی کی چیخ و پُکار سُنی، اُس کا یہ بِلکنا ایسا تھا کہ کسی کو بھی اُس کی فوری مدد کے لیے آمادہ کر سکتا تھا۔ماں کی جانب سے لاکھ بہلانے پر بھی بچی چُپ ہونے کا نام نہ لے رہی تھی۔ میں اپنی ڈیوٹی کے مطابق خاتون کے پاس گئی اور اُس سے پوچھا کہ کیا بچی کسی

پریشانی میں ہے؟ کیا بچی بھُوک کی وجہ سے ایسا کر رہی ہے، تو پریشان ماں نے آنسوؤں سے تر آنکھوں سے مجھے بتایا کہ اُس کے پاس اس وقت دُودھ کا پیکٹ موجود نہیں ہے۔بدقسمتی سے جہاز میں بھی یہ سہولت موجود نہ تھی۔ اب ہمیں پریشانی لاحق ہو گئی کہ فارمولا دودھ کی عدم موجودگی میں بچی تو رو رو کر ہلکان ہو جائے گی۔ تبھی میرے ذہن میں ایک خیال آیا کیوں نہ میں بچی کو اپنا دودھ پِلا دُوں۔ کیونکہ اس کے سوا اب اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ میں جہاز کے کچن کی جانب چل دی اور مسافر خاتون کو اشارہ کیا کہ وہ بچی کو لے کر میرے پیچھے پیچھے آئے۔کچن میں پہنچ کر میں نے بھُوکی بچی کو اپنا دُودھ پلایا اور یوں بھُوک مِٹنے کے چند لمحوں بعد ہی چیختی چنگھاڑتی بچی پر غنودگی طاری ہو گئی اور وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ میں نے ماں اور بچی کو واپس اُس کی سیٹ پر لا کر بٹھا دیا ۔ تو ماں نے مجھے ممنون آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’آپ کا بہت شکریہ!‘‘ تاہم اس واقعے کے بعدمیں نے اپنے رب کا شکریہ ادا کیا ہے جس نے مجھے شیرِ مادر کی نعمت سے نوازا ہے۔‘‘ اورگینو نے اپنی یہ کہانی کچھ تصاویر کے ساتھ فیس بُک پر شیئر کی جن میں اُس نے روتی ہوئی بچوں کو گود میں تھام رکھا ہے۔ ممتا کے احساسات سے بھرپور یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی اور لاکھوں لوگوں نے اورگینوکے ممتا سے جذبے سے بھرپور اس پوسٹ کو سراہا ہے۔ اب تک اس پوسٹ کو 96 ہزار لائکس مِل چکے ہیں، 3700افراد نے اس پر کمنٹس کیے ہیں جبکہ شیئر کرنے والوں کی گنتی 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *