تازہ ترین
ہوم / پاکستان / عدالت میں پیشیوں کے بعد پولیس اہلکار خواتین قیدیوں کو جیل کی بجائے کہاں لے جاتے ہیںاور انکے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، اعلیٰ پولیس افسر کے خط میں لرزہ خیز انکشافات، انسانیت کا سرشرم سے جھکادیا

عدالت میں پیشیوں کے بعد پولیس اہلکار خواتین قیدیوں کو جیل کی بجائے کہاں لے جاتے ہیںاور انکے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، اعلیٰ پولیس افسر کے خط میں لرزہ خیز انکشافات، انسانیت کا سرشرم سے جھکادیا

فیصل آباد (نیوز ڈیسک) فیصل آباد جیل کے سپرٹنڈنٹ نے سی پی او فیصل آباد کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا ہے کہ تفتیشی حکام پیشیوں کے بعد خواتین کو نامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کا ایک اور شرمناک کارنامہ سامنے آ گیا ہے۔فیصل آباد میں تفتیشی افسران کے سیاہ کرتوت کھل کر سامنے آگئے ہیں۔تفتیشی افسران پر الزام ہے کہ وہ پیشیوں کے بعد خواتین قیدیوں کو لے کر نامعلوم مقامات پر رکھا جاتا ہے اور کبھی کبھار وہ رات رات بھر واپس نہیں بھیجا جاتا ۔ان حالات سے نالاں فیصل آباد جیل کے سپرٹنڈنٹ نے سی پی او فیصل آباد کو خط لکھ دیا ہے۔خط میں سی پی او فیصل آباد کو بتایا گیا ہے کہ تفتیشی افسران اکثر قیدی خواتین کو عدالت میں پیش کرنے کے

بعد بروقت واپس نہیں بھیجتے۔انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ تفتیشی حکام خواتین کو پیشی کے بعد نامعلوم مقامات پر لے جاتے ہیں۔وہاں انکو رکھا جاتا ہے اور کبھی کبھار کچھ وقت کے لیے رکھا جاتا ہے اور کبھی کبھی رات رات بھر خواتین قیدیوں کو واپس نہیں بھیجا جاتا۔جیل سپرٹنڈنٹ کے اس خط کے بعد پولیس حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔سی پی او فیصل آباد نے اس خط پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔جس کی بنیاد پر کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جائے گا۔یا درہے کہ جیل سپرٹنڈنٹ اپنے خط میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کسی بھی نا خوشگوار واقعے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *