ہوم / کالم و مضامین / احساس مر گیا۔۔۔تحریر: شیرمحمد اعوان

احساس مر گیا۔۔۔تحریر: شیرمحمد اعوان

ہمارے معاشرے میں آئے روز کوئی دلخراش واقعہ ہوتا ہے۔ایک شور اٹھتا ہے۔آوازیں آتی ہیں کہ احساس مر گیا ہےلیکن غروب آفتاب تک یہ نوحے سسکیوں میں تبدیل ہو کر افق کی سرخی کے ساتھ معدوم ہو جاتے ہیں اور اگلے دن کسی نئے سانحہ پر پھر سے نوحہ کناں ہونے کی تیاری ہوتی ہے۔ چونکہ احساس کی کوئی طبعی شکل یا جسم نہیں ہوتا اس لیے ہم ہر واقعہ پر احساس کی موت کا کتبہ سجا کے اپنا سر دھنتے ہیں اور الفاظ کوبی کرتے خواب خرگوش ہو جاتے ہیں۔حقیقت میں یہی احساس کی موت کی علامت ہے۔سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے ڈائیریکٹر کی حوالات میں موت نے ایک دردناک داستان رقم کی ہے۔اگرچہ نیب اس کا بوجھ پولیس پر ڈالنے کی بھر پور کوشش میں لگا ہے

لیکن مسلہ یہ نہیں کہ ایک شخص حوالات میں جان کی بازی ہار گیا۔جب انسان کا وقت پورا ہو جائے تو وہ دیس ،پردیس،زمین یا آسمان جہاں بھی ہے اس نے یہ عارضی قیام گاہ چھوڑنی ہے ۔مسلہ یہ ہےکہ ایک شخص جب فوت ہو گیا اس کے جسم پر سفید چادر بھی ڈال دی گئی تو ابھی تک اسکی ہتھکڑی کیوں نہیں کھولی گئی۔کیا نیب کو ڈر تھا کہ ایک بے روح جسم اسکے عقوبت خانوں سے فرار ہو جائے گا۔ ۔۔۔میری رہائی پہ اب جشن نہ منائے کوئی۔۔میں قید خانے سے زنجیر لے کے نکلا ہوں۔۔۔اس سے بڑی شرم کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ بلکہ سانحہ اس ملک میں پیش آیا جہاں چند دن پہلے حکومتی حکم نامہ جاری ہوا کہ اساتذہ کی عزت و تکریم کی جائے اور انہیں سیلوٹ کیا جائے۔وہاں ہم نے مر جانے والے شخص جس پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا اس کو ہتھکڑی لگا کے اپنی فرعونی گرفت ثابت کی۔اور دنیا کو باآور کروایا کہ ہماری پکڑ کتنی مضبوط ہے۔یہ معاملہ یہاں نہیں رکے گا کیونکہ تھوڑا عرصہ پہلے ستر اسی سالہ جوان پروفیسرز کو ہتھکڑی لگا کر گھمایا گیا تا کہ وہ چاک و چوبند اور توانا لوگ فرار نہ ہوں۔ ہم نے حسب عادت اور وقت گزاری کے لیے شور مچایا۔ادارے نے معافی مانگی۔مگر پھر میت کو ہتھکڑی لگا دی۔اب پھر ہم چیخیں گے پھر معافی مانگی جائے گی اور اگلی بار اس سے بڑا سانحہ ہو گا اور میت کو ہتھکڑی لگا کے دفن کیا جائے۔کیونکہ یہاں لوگوں کی موت نہیں ہوتی احساس مرتا ہے۔ہمارے اندر احساس کا فقدان اس قدر ہے کہ ہم نے اس دلخراش واقعہ پر بھی اسے قومی اور معاشرتی المیہ سمجھنے کی بجائے اپنی اپنی پارٹیوں سے نتھی کر کے اس پہ تنقید یا دفاع شروع کر دیا ہے۔وزیر اطلاعات کا دوسرے دن دکھایا گیا بیان یہ ثابت کرتاہے کہ اس پہ دکھ کی بجائے سیاسی بیر نکالنا زیادہ سود مند ہو گا۔ اساتذہ کی تکریم کے حکم نامہ کے

بعد تو یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ محترم وزیراعظم جو خود کو تعلیم دوست ثابت کرنے کے لیئے کوشاں یے انکو فورا پریس کانفرنس کر کے نوٹس لینا چاہیے۔اور فورا کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔نیب یا دوسرے اداروں کے حوالے سے بھی حکومت کو بہتر قانون سازی اور پالیسی مرتب کرنی چاہیے لوگوں کو بھی ایسے سانحات پر آواز اٹھانی چاہئے تا کہ یہ دوبارہ نہ ہو۔جنکے پاس طاقت ہے انکو تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے کہ کسی کے پاس یہ مستقل نہیں رہی۔اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور احساس کی جو رتی باقی ہے وہ نہ رہی تو سب اس آگ کی لپیٹ میں آئیں گے۔۔۔لگے گی آگ تو آئیں گے سبھی گھر زد میں۔۔۔شہر میں صرف میرا مکان تھوڑی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *