تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / نواز شریف کی ممکنہ سزا اور سیاسی منظر نامہ ۔۔۔ تحریر: انجینئر اصغر حیات

نواز شریف کی ممکنہ سزا اور سیاسی منظر نامہ ۔۔۔ تحریر: انجینئر اصغر حیات

میاں صاحب العزیر اور فلیگ شپ ریفرنس میں جیل جائیں گے یا آزاد رہیں گے فیصلہ سموار کو ہو جائے گا، حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ میاں صاحب کو ایک بار پھر جیل ہونے والی ہے، وہ ذہنی طور پر جیل جانے کیلئے تیار بھی ہوچکے ہیں، یہ میاں صاحب کی نااہلی کے بعد دوسری بار گرفتاری ہوگی، جب سپریم کورٹ سے وزارت عظمی کیلئے نااہلی ہوئی اور پھر دوسری بار پارٹی صدارت کیلئے نااہلی ہوئی تو صورتحال مختلف تھی، جب انہیں پہلی بار جیل ہوئی تو اس وقت حالات کچھ اور تھے، ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف آزاد تھے، وہ مفاہمت کی تگ و دو میں بھی تھے اور میاں صاحب کو بھی خاموش رہنے اور اداروں کے ساتھ ٹکرائو نہ کرنے مشورہ دے رہے تھے، نواز شریف اپنی اہلیہ کے علاج کیلئے لندن گئے تو ان کے مخالفین نے خوب پروپیگنڈہ کیا کہ میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی ڈیل کیلئے تیار ہوگئے

ہیں جس کے تحت وہ چند سالوں کیلئے سیاست سے علیحدہ ہوجائیں گے اور بیرون ملک ہی قیام کریں گے، میاں صاحب اپنی بیمار اہلیہ کے پاس رکنا چاہتے تھے لیکن مخالفین کے پروپیگنڈے سے ان کی جماعت کو شدید نقصان ہو رہا تھا، اور وقت بھی ایسا جب الیکشن قریب تھے، احتساب عدالت کا فیصلہ آگیا اور میاں صاحب تمام رفقا سے مشورہ کے بعد کلثوم نواز کو بستر مرگ پر چھوڑ کر گرفتاری دینے وطن واپس لوٹے، مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کے استقبال کیلئے کارکنوں کو لاہور ایئرپورٹ پر پہنچنے کی کال دے رکھی تھی، ہزاروں لوگ لاہور کی سڑکوں پر تھے، میاں شہباز شریف جلوس کی قیادت کررہے تھے لیکن ان کا قافلہ کبھی لاہور ایئرپورٹ نہ پہنچا، یوں میاں نواز شریف اپنے بھائی اور کارکنوں کا دیدار کیے بغیر جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے، گرفتاری سے قبل میاں صاحب مزاحمت کی سیاست کا آغاز کر چکے تھے، اپنے کارکنوں کو مزاحمت کی سیاست کی طرف مائل کرچکے تھے، ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے اپنے بھائی کے بیانیے سے ہٹ کر بیانیہ اپنایا وہ تھا ترقی اور خوشحالی کا بیانیہ، اسی بیانیے پر انہوں نے الیکشن کمپین کی، انہوں نے مخالفین کو اس طرح نہیں للکارا جس طرح میاں نواز شریف نے للکارا تھا، یوں تو الیکشن میں مسلم لیگ ن کی شکست کی بہت سی وجوہات تھیں ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میاں شہباز شریف میاں نواز شریف کے بیانیے کو اس طرح لے کر نہیں چلے جس طرح انہیں لے کر چلنا چاہیے تھا، بہر حال انتخابات ہوئے تحریک انصاف کو جوں توں کرکے اکثریت مل گئی اور وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی، کچھ دن بعد کلثوم نواز اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، پھر نواز شریف کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں رہائی دی، وہ دن آج کا دن نواز شریف اور

مریم نواز خاموش ہیں، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں نیب لاہور نے ان کے بھائی شہباز شریف کو آشیانہ ہاوس سکیم کیس میں گرفتار کرلیا، اس روز حمزہ شہباز نے بڑی جذباتی پریس کانفرنس کی، اس کے اگلے روز رات ایک ٹی وی پروگرام میں بیٹھے حمزہ شہباز اپنے والد کی بے گناہی کی بات کررہے تھے تو اینکر نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ ـ حمزہ شہباز صاحب آپ کا اور آپ کے والد کا یہ موقف تھا کہ میاں نواز شریف کا لہجہ تھوڑا سخت ہے، آپ نے ان کو سمجھانے کی کوشش بھی کی اور یہ کہا کہ آپ اداروں کیساتھ ٹکراو کی پالیسی ترک کردیں، کیا وہ آپ کی بات سمجھ گئے، حمزہ شہباز لاجواب تھے، اینکر نے اگلا سوال کیا میاں نواز شریف سمجھ گئے آپ کی بات یا پھر وہ آپ سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھ لیا، ہم درست کہتے تھے، آپ نہیں سمجھ رہے تھے، دونوں بار حمزہ شہباز لاجواب تھے، میاں شہباز شریف نے مفاہمت کی

ہر کوشش کر کے دیکھی، یہ ثابت کرنے کیلئے بھی اپنے بھائی کے بیانیے سے کوسوں دور کھڑے ہوگئے، لیکن ان کی یہ پالیسی بھی کارآمد ثابت نہیں ہوئی، اڈیالہ سے رہائی کے بعد سے اب تک میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی بالکل خاموش ہیں، ایک دو بار انہوں نے زبان کھولی لیکن وہ بھی مجبوری کے تحت، وہ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے حق میں بھی بہت کم بولے،کیا میاں صاحب یہ جان گئے ہیں کہ سخت لہجے سے معاملات مزید خرابی کی طرف جارہے ہیں یا پھر وہ کسی مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں، مسلم لیگ ن والے تو میاں صاحب کی خاموشی پر مختلف قسم کی تاویلیں باندھ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب مکمل خاموش ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو بھی بہت کم تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شاید وہ موجودہ حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں لیکن موجودہ حکومت جوں جوں مضبوط

ہورہی ہے اپوزیشن کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، پہلے سو دن کو اگر دیکھا جائے تو بہت سے اپوزیشن رہنماوں کے خلاف نیب نے انکوائری کا آغاز کردیا ہے اور یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا، ابھی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی گرفتاری کی باتیں ہو رہی ہیں، آصف زرداری کی گرفتاری فی الحال تو رک گئی ہے لیکن ان پر نااہلی کی تلوار بھی لٹک رہی ہے، یہ ابھی کہنا قبل از وقت ہے کہ زرداری صاحب نااہل پہلے ہوتے ہیں یا جیل پہلے جاتے ہیں، لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی گرفتاری بہت دور نہیں، اگر آصف علی زرداری گرفتار ہوجاتے ہیں تو پیپلزپارٹی مزاحمتی تحریک شروع کرے گی، موجودہ حکومت کی چار ماہ کی کارگردگی میں بہت کی ناکامیاں موجود ہیں، وزرا ان ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ

حکومتی وزرا اپوزیشن کو اشتعال دلانے کی کوشش کررہے ہیں، اور اپوزیشن محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، دیکھنا یہ ہے اپوزیشن کب تک یہ محتاط رویہ اپنائے رکھتی ہے، اگر میاں نواز شریف اور پھر آصف زرداری گرفتار ہوجاتے ہیں تو اپوزیشن مشترکہ مزاحمتی تحریک شروع کرےگی؟ تحریک کی صورت میں کیا مریم نواز اور بلاول بھٹو قیادت کریں گے؟ اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے شروع کی جانے والے تحریک کے سامنے کیا حکومت کھڑی رہ سکے گی، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والا وقت ہی دے گا، حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں سوائے اندر سے، وزرا کی ناکامیوں اور بلنڈرز کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو حکومت خود اپنے لیے مشکلات پیدا کرے گی، وزیراعظم عمران خان نے پہلے 100 دن کی کارگردگی پر وزرا کو کلین چٹ دیدی، ناقص کارگردگی کے باوجود وزرا کو شاباش دی گئی، مستقبل میں بھی اگر ایسا ہی کیا گیا اور خراب کارگردگی والے وزرا کابینہ میں موجود رہے تو موجودہ حکومت کی کشتی کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *