تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / کیا ہمیں نیو ایئر کی خوشیاں منانے کا بھی حق نہیں؟؟؟ تحریر : انجینئر اصغر حیات

کیا ہمیں نیو ایئر کی خوشیاں منانے کا بھی حق نہیں؟؟؟ تحریر : انجینئر اصغر حیات

گزشتہ سال نیو ایئر کی کوریج کیلئے مری جانے کا اتفاق ہوا، خون جما دینے والی سردی کے باوجود سیاحوں کی ایک بڑی تعداد مری کے مال روڈ پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلئے مال روڈ پر موجود تھی، مری کی مال روڈ کی رونقوں کی کیا بات ہے، فیملیز ننھے بچے، بزرگ دور دراز سے نئے سال کو خوش آمدید کہنے مری پہنچے تھے، شدید سردی میں لوگ چھوٹے بچوں کے ہمراہ مری کی مال روڈ پر ٹہلتے رہے، شاپنگ کی، زبردست پکوانوں سے لطف اندوز ہوئے،رات دس بجے سے ہی سیاح جی پی او چوک پر جمع ہونا شروع ہوگئے، ساڑھے گیارہ بجے سے پہلے جی پی او چوک بھر چکا تھا، حد نگاہ تک لوگ ہی لوگ تھے، بارہ بجتے ہی جی پی او چوک پر آتش بازی شروع ہوگئی،

دیکھتے ہی دیکھتے مری کی فضائیں خوبصورت روشنیوں سے جگمگا اٹھیں،آتش بازی کے وقفے کے دوران مجمے کی موبائل لائٹس کا منظر اور بھی دلکش تھا، لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے، جی پی او چوک پر دو مخالف ہوٹلز سے آتش بازی جاری تھی، ایک طرف سے آتش بازی ہوتی تھی تو ان کے نعرے اور دوسری طرف سے دوسروں کے نعرے، اسی سارے کھیل میں ایک بج گیا، پولیس بھی سیاحوں کی حفاظت کیلئے تمام ساز و سامان کے ساتھ موجود تھی، میڈیا نمائندگان ایس پی پولیس کے ساتھ جی پی او چوک پر موجود سیڑھیوں پر کھڑؑے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے، ایک بجا تو ایس پی نے اے ایس آئی کو بلایا اور کہا ڈسپرس دیم (انہیں منتشر کردو)، پولیس کی ہائی کمان کی طرف سے حکم ملتے ہی پولیس فورس نے آو دیکھا نہ تاو، پولیس کے شیر دل جوان ڈنڈوں کے ساتھ ہجوم پر ٹوٹ پڑے، نہ بچوں کی پرواہ کی نہ عورتوں اور نہ ہی بزرگوں کی، ہر طرف چیخ و پکار تھیں، میرے سامنے یہ سب ہورہا تھا اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ انسان ہیں یا ڈنگر جنہیں اس طرح مارا جارہا ہے، ڈنگروں کو بھی شاید اس طرح ہانکا جاتا ہو، لیکن یہ سب انسانوں کے ساتھ ہورہا تھا، ہجوم کو منتشر کرنے کا کیا ہی اعلی طریقہ ڈھونڈا مری کی انتظامیہ نے، انسانیت کی تذلیل کا ایسا واقعہ شاید ہی میں نے کہیں اور دیکھا ہو، ایک عورت اپنے زخمی بچوں کے ساتھ پہنچی، ان کے ہاتھوں اور بازوں پر ڈنڈوں کے نشان تھے، میں نے ان کا بیان ریکارڈ کیا اور بھیج دیا، ایس پی سے پوچھا تو اس نے صاف انکار کردیا، کیوں کہ میں اپنےکانوں سے ایس پی صاحب کا حکم سن چکا تھا ان کی تردید پر کیسے یقین کرتا، میں نے ان سے کہا کہ میں نے خود آپ کو حکم دیتے سنا، تو لگے تاویلیں باندھنے، میں گزشتہ دو گھنٹے سے گھڑی کو دیکھ رہا تھا، آیت الکرسی

پڑھتے میں نے یہ وقت گزارا، خدا نہ کرے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوجاتا تو ذمہ دار کون ہوتا؟ میں حیرت سے ان کی باتیں سن رہا تھا کہ صاحب کیسے غلط کو صحیح قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں، کیمرہ مین دوسری طرف تھا اس کو آواز دی ایس پی صاحب کا بیان ریکارڈ کرنا چاہا تو کیمرہ مین کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ چلتے بنے، میں وہ کھڑا سوچتا رہ گیا یہ کیسا نظام ہے، کیا لوگوں کو خوشیاں منانے کا بھی حق نہیں؟کیا ہو گیا تھا اگر سیاحوں کی خوشیاں تھوڑی لمبی ہوگئیں، اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے انہیں اتنا بھی حق نہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *