تازہ ترین
ہوم / صحت و تعلیم / جنوبی پنجاب کے دوردرازعلاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی پر مامور کتنےموبائل ہیلتھ یونٹس کو واپس بلالیا گیا، افسوسناک انکشافات

جنوبی پنجاب کے دوردرازعلاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی پر مامور کتنےموبائل ہیلتھ یونٹس کو واپس بلالیا گیا، افسوسناک انکشافات

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام سے گھر کی دہلیز پر ملنے والی طبی سہولیتیں چھین لیں۔موبائل ہیلتھ یونٹس واپس منگوا کر بڑے شہروں کے ٹیچنگ اسپتالوں کو سونپ دئیے گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ن لیگی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب کے دور درزا علاقوں میں عوام کو گھر کی دہلیز پر طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے موبائل ہیلتھ یونٹس کا منصوبہ رک کیا گیا جو کامیابی سے جاری تھا۔تاہم موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی پر مامور موبائل ہیلتھ ہیونٹس واپس منگوا لیےہیں۔محکمہ پرائمزی ہیلتھ نے موبائل ہیلتھ یونبٹس کو واپس منگوا کر بڑے شہروں میں ٹیچنگ اسپتالوں کے سپرد کر دیا۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کو دو ، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی،راولپنڈی یونیورسٹی ، نشتر میڈیکل یونیورسٹی کو ایک ایک موبائل ہیلتھ یونٹ دیا گیا،

۔واپس منگوائے جانے سے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں کے شہری اپنے گھر کی دہلیز پر طبی سہولتوں کی فراہمی سے محروم ہو گئے۔خیال رہے اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ : وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان کو لاہور جیسا بنانے کے لیے لاہوریوں کی حفاظت کی قربانی دے دی۔عثمان بزدار نے اپنے علاقے میں صحت، تعلیم اور پانی جیسی سہولیات دینے سے پہلے ڈولفن فورس پہنچا دی۔ابتدائی طور پر لاہور سے 30 موٹر سائیکل سواروں کا دستہ ڈیرہ غازی خان پہنچایا گیا ہے۔ ڈولفن فورس میں حال میں شامل ہونے والے 70 ماسٹرٹرینرز،افسران اور اہلکاروں کو بھجوایا جائے گا اور اس حوالے سے حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا تھا تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ موجودہ حکومت نے جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی پر مامور موبائل ہیلتھ ہیونٹس واپس منگوا لیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *