ہوم / انٹرنیشنل / اسلام چھوڑنے والی سعودی لڑکی کو پناہ دینے کا معاملہ، آسٹریلیا نے اہم اعلان کردیا

اسلام چھوڑنے والی سعودی لڑکی کو پناہ دینے کا معاملہ، آسٹریلیا نے اہم اعلان کردیا

نیویارک (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ میں گرفتار سعودی لڑکی کا معاملے دیکھنے میں مزید کچھ دن لگیں گے جبکہ آسٹریلین حکومت نے لڑکی کی حفاظتی پناہ لینے سے متعلق درخواست کو عالمی ادارے کے فیصلے سے مشروط قرار دیاہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بینکاک میں موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے حکام نے تھائی لینڈ حکومت کی جانب سے سعودی لڑکی رحاف محمد القنون کو ملک بدر نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا ہے ۔اس حوالے کے حل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بینکاک میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے گٴْسیپی ڈی وینسینٹی نے بتایا کہ ادارے کو یہ معاملہ دیکھنے اور مزید اقدامات اٹھانے میں مزید کچھ

دن لگ سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے زور دیا ہے کہ جو لوگ پناہ لینے کی غرض سے تھائی لینڈ آئیں انہیں ملک بدر نہ کیا جائے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جب بینکاک میں موجود سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سعودی سفارتخانے نے رحاف محمد القنون سے کسی بھی سفارتکار کی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا خاندان کویت میں رہتا ہے اور وہ کویت سے یہاں آئی ہیں۔سفارتخانے نے بتایا کہ رحاف محمد القنون کا پاسپورٹ ضبط نہیں کیا گیا ہے جبکہ سفارتخانہ اس معاملے میں سعودی حکام سے رابطے میں ہے جبکہ سعودی حکام ان کے والد کو تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ایک اور سعودی حکام نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ رحاف کے والد نے سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے اور اپنی بیٹی کو واپس لانے کیلئے مدد بھی مانگی۔ دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے رحاف محمد القنون کی پناہ سے متعلق درخواست پر نظرثانی کرنے کا عندیہ دے دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت کو حفاظتی پناہ کی درخواست موصول ہوئی ہے جس پر اسے دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے پاس ہے تاہم جیسے ہی عالمی ادارہ کسی نتیجے پر پہنچے گا تو سعودی لڑکی کی درخواست پر غور کرنے کا عمل شروع ہوجائے گا۔واضح رہے کہ 18 سالہ رحاف محمد القنون اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھیں جہاں سے وہ بینکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئیں۔اپنے اہلخانہ کی جانب سے قتل کئے جانے کے خطرے سے دوچار رحاف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں ہیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس

بھیجنے کی صورت مجھے قتل کردیا جائیگا،انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا ہے جس پر آسٹریلیا کا ویزا موجود ہے‘۔امیگریشن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رحاف شادی کی خواہش مند نہیں اور اسی لئے اپنے اہل خانہ سے راہ فرار اختیار کی اور اب انہیں سعودی عرب واپس جانے پر تحفظات ہیں‘۔بعدازاں امیگریشن پولیس کے سربراہ نے کہا تھا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند لڑکی کو کچھ وقت کیلئے تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی لڑکی رہاف القنون کے مطابق اُس نے اسلام سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اپنے سعودی والدین کے پاس سے بھاگ کر آسٹریلیا جانے کے لیے بنکاک پہنچی تھی مگر

اُسے مزید آگے سفر کرنے سے روک دیا گیا ۔رہاف کے بنکاک ایئرپورٹ پہنچنے پر وہاں موجود ایک سعودی عہدے دار نے اُس کا پاسپورٹ ضبط کر لیاتھا ۔ کیونکہ اُس کے والد نے سعودی حکام کو سارے معاملے سے آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنے ولی کی مرضی کے بغیر سفر کر رہی ہے جس کی سعودی قانون میں ممانعت ہے، جس پر بنکاک میں موجود سعودی حکام حرکت میں آ گئے اور لڑکی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سعودی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ایک خاندان کا نجی معاملہ ہے۔ انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان نے رہاف کا معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اُس کے حق میں زور شور سے آواز اُٹھانی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں #SaveRahaf کے نام سے ہیش ٹیگ بھی بن چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *