تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / ترک عوام میں پاکستان کیلئے بے پناہ محبت، دونون ممالک نےعوام کی خوشحالی اور مضبوط معیشت کیلئے شاندار قدم اٹھالیا

ترک عوام میں پاکستان کیلئے بے پناہ محبت، دونون ممالک نےعوام کی خوشحالی اور مضبوط معیشت کیلئے شاندار قدم اٹھالیا

کراچی(نیوز ڈیسک) پاکستان اور ترکی نے سیاسی رشتہ معاشی تعلق میں تبدیل کرنے کا اعادہ کیا ہے، وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ترکی کے ساتھ اسٹریٹجک پلان پرکام ہورہا ہے، ترکی میں عوامی سطح پر پاکستان کیلئے بے پناہ خیرسگالی کا جذبہ ہے،خارجہ پالیسی میں تجارتی پالیسی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کراچی چیمبر آف کامرس میں صنعت کاروں سے ملاقات کی۔ملاقات میں تاجروں کے مسائل سنے اور منی بجٹ سے متعلق تجاویز بھی لیں۔ اس موقع پر سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر میں نچلے درجے کے افسران تک طاقت منتقل کی گئی۔ ایف بی آر افسران نے طاقت رشوت لینے کیلئے استعمال کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی

ہے کہ ایف بی آر کو تالہ لگا دیں شر طیہ 15 فیصد ریونیو بڑھ جائے گا۔وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ 23 جنوری کو منی بجٹ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منی بجٹ میں ٹیکس اینا ملیز کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بیرون ملک جانا ہے اس لیے 23جنوری کو ہی فنانس بل پیش کردیا جائے گا۔ ٹیکسوں سے متعلق ہرقسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے دی جائے گی۔ بغیر کسی چیک بیلنس کے کوئی اختیار ہو تو وہ اختیار نقصان دہ ہوگا۔ ہمیں علم ہے کہ ماضی میں قلم کی ایک جنبش سے ہر روز کیا کیا کام کیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے کہ کاروبار میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اکیس ویں صدی میں معیشت کا پہیہ نجی شعبہ چلاتا ہے۔ سرمایہ کاری ہوگی تومعیشت آگے بڑھے گی اور نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔ اسد عمر نے کہا کہ ایف بی آر کے ایس آر او کے اجراء کا اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی نے سیاسی رشتہ معاشی تعلق میں تبدیل کرنے کا اعادہ کیا ہے۔وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ترکی کے ساتھ اسٹریٹجک پلان پرکام ہورہا ہے، ترکی میں عوامی سطح پر پاکستان کیلئے بے پناہ خیرسگالی کا جذبہ ہے۔ ترکی اور پاکستان میں خیر سگالی کے جذبات کےتحت ہی تجارتی رشتہ نہیں ہے۔ترکی سےتجارتی وفود کے تبادلے پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں تجارتی پالیسی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ساؤتھ ایشیا میں مجموعی معیشت کا27 فیصد خطے کاانٹرنل بزنس ہے۔وزیراعظم نے بھارت سے مسائل پر بات چیت کیلیےہاتھ بڑھایا۔ بھارتی حکومت کے انکار کی وجہ بھارت کے اندر کی صورت حال ہے۔ دوست ممالک سے پیسے ہی نہیں بلکہ بڑی سرمایہ کاری بھی آرہی ہے۔ ہم نے 5مہینے میں جو فیصلے کئے ہیں وہ بجٹ میں نظرآئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وزیرتوانائی پاکستان میں آئے ہوئے ہیں۔جلد اگلا مرحلے میں سرمایہ کاری کی علامات ظاہرہوں گی۔اس کے ساتھ ہی برآمدات بھی بڑھیں گی۔انہوں نے کہا کہ گیس فراہمی کے پلان میں غلطیاں کی گئیں اس لیے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔گیس کے مسائل نہیں آنے چاہئیں تھے، بالکل مانتے ہیں۔ یاد رہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ روز بھی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو میں واضح کیا تھا کہ ہماری حکومت نے برآمدات اور ترسیلات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی پر توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان فنڈز کے متبادل انتظام میں کامیاب رہے ہیں، اب

ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر پروگرام کیلئے بات چیت کا وقت مل گیا ہے، موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر انتظامات پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لئے جو اقدامات ضروری ہیں، وہ ہم کر رہے ہیں۔ دوست ممالک سے مالی پیکج کے حصول کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کی جانب سے کوئی شرائط عائد نہیں کی گئی ہیں، سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے، ہماری حکومت پہلی سول حکومت ہے جو آئی ایم ایف سے ہٹ کر اتنے بڑے پیمانے پر مالی انتظام کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، آئی ایم ایف کے بغیر گزارا ممکن ہے تاہم ملکی معیشت کی

ضروریات کے پیش نظر مختلف آپشنز کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ سابق دور میں معیشت کے حوالے سے حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کی گئی جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال بجلی و گیس کے شعبے کے نقصانات کو بجٹ خسارہ میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ضمنی فنانس بل میں 90 فیصد اقدامات ملکی برآمدات، کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر مبنی ہوں گے۔ یہ فیصلہ کاروباری برادری کے اعتماد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کا بھی مؤقف ہے کہ جون تک انتظار کرنے کی بجائے ابھی سے کچھ اقدامات کر لئے جائیں جن میں سے بعض فوری نوعیت کے ہوں گے جبکہ دیگر کا اطلاق جولائی سے ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *