تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / ڈاکٹر شاہد مسعود کی جیل سےرہائی کے بعد وزیراعظم سے ملاقات،این آر او سے متعلق کیا بات ہوئی، عمران خان کو میری کس بات کا غصہ تھا، سینئرصحافی نے ملاقات کا احوال بتادیا

ڈاکٹر شاہد مسعود کی جیل سےرہائی کے بعد وزیراعظم سے ملاقات،این آر او سے متعلق کیا بات ہوئی، عمران خان کو میری کس بات کا غصہ تھا، سینئرصحافی نے ملاقات کا احوال بتادیا

لاہور (نیوز ڈیسک)سینئرصحافی اور سابق ایم ڈی ڈاکٹر شاہد مسعود کی جیل سے رہائی کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ میری وزیراعظم عمران خان سے ون او ون ملاقات ہوئی۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اندر اور باہر بھی ایسے لوگ ہیں جنھوں نے وہ دو کاغذات ہی نکلنے دئیے کہ جن کے نکلنے سے یہ معاملہ 70 روز تک نہ چلتا۔میری خواہش تھی کہ میری عمران خان سے اکیلے میں ملاقات ہو اور مجھے خوشی ہے کہ ملاقات کے دوران انہوں نے میری تنقید بھی سنی۔میں نے انہیں کہا کہ اب تو پاکستان ٹیلی ویژن آپ کے انڈر ہے تو آپ کو پتہ ہو گا کہ وہاں سے کاغذات غائب کیسے ہوئے۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں عمران خان نے مجھر پر غصہ کیا تھا کیونکہ میں نے پی ٹی وی جوائن کیا تھا۔ملاقات میں نواز شریف اور شہباز شریف کی صحت پر بھی بات ہوئی۔میں نے

وزیراعظم عمران خان کو یہ بھی بتایا کہ اب آصف علی زرداری واقعی بیمار ہیں۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ پر پوری نظر رکھی ہوئی ہے۔اور مجھے دور دور تک کوئی این آر او کی کوئی بھنک نہیں پڑی۔اگر میں کوئی نرم بات کرتا بھی تھا تو عمران خان کا موقف سخت ہوتا تھا۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید بتایا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ وزیراعظم عمران خان احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کا پیسہ لوٹنے والا اب نہیں بچے گا۔انہوں نے مجھ سے ہتھ کڑیاں لگنے سے متعلق بھی سوال کیا اور پوچھا کہ تمہیں ہتھ کڑیاں کون لگاتا تھا؟۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے یہ بھی کہا کہ اب مکھن لگانے کی سیاست ختم ہو گئی ہے اور وزیراعظم عمران خان کے سامنے کوئی بھی کھل کر بات کر سکتا ہے اور میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ میں عمران خان سے ملاقات کے بعد یہی تاثر لے کر نکلا ہوں کہ کوئی این آر او نہیں ہونے جا رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *