ہوم / کالم و مضامین / وفاق کے استحکام میں اٹھارویں ترمیم کا کردار ۔۔۔ تحریر : افتخار بھٹہ

وفاق کے استحکام میں اٹھارویں ترمیم کا کردار ۔۔۔ تحریر : افتخار بھٹہ

اٹھاریں ترمیم میں وفاقی حکومت کی طرف سے ردو بدل کے حوالے سے مختلف رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔حکومت کے کئی سر کردہ وزراء کئی بار اسکی متعدد دفات کے بارے میں تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں یاد رہے فروری 2018؁ میں بعض حلقوں کی طرف سے اٹھارویں ترمیم کو بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے زیادہ خطر ناک قرار دیا جا چکا ہے ۔موجودہ حکومت کے قائم ہونے کے بعد مختلف سیاسی شخصیات اور بالخصوص تھریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے متعدد بار صدارتی نظام کی تعریف کی گئی ہے اور انہوں نے اپنا رول ماڈل مہا تیر محمد اور طیب اردگان کو قرار دیا ہے جبکہ کہا ہے صدر ایوب خان اور صدر مشرف کے عہد حکومت میں بے مثال ترقی ہوئی ہے اگر دیکھا جائے تو ملائیشیا کے روہنمائوں نے منصوبہ بندی اور نظریاتی ویژن کے تحت ریاستی وسائل

اور صنعتوں کو ترقی دینے کیلئے ملک میں بہتر انتظامی ڈھانچہ قائم کیا ہے ۔ لوگوں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی ہیں وہاںپر اپوزیشن اتنی کمزور ہے جو کہ ان پاپو لر قیادتوں کیلئے کبھی چیلنج نہیں بن سکی ہے کیونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے ان ممالک میں نسلی اور لثانی مسائل در پیش نہیں ہیں ، ترکی میں کردوں کے حوالے سے باعث مسائل حل طلب ہیں ۔ ان ممالک نے غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدی گروتھ کے ذریعے اپنے ترقی کے اہداف حاصل کیے ہیں اس کے علاوہ وہاں پر سیاحت کو پروموٹ کر کے بے پناہ زر مبادلہ کمایا ہے ۔ مگر پاکستان کے مسائل نسلی لسانی ، ثقافی اور سماجی حوالوں سے ہیں صدر ایوب خان نے قومیتوں ، صوبائی اور لاثانی وسائل کو چھپانے کیلئے قومی یکجہتی کے نام پر ون یونٹ کا ڈرامہ رٹایا اس نے اقتدار کے آنے کے بعد یہاں سے جمہوریت کا بستر لپیٹ دیا ، غیر جماعتی بلدیاتی ممبران کو الیکشن میں صدر اور پارلیمنٹ کو منتخب کرنے کا نام دیا بعد میں یہی نظام جماعتی میں تبدیل ہوا جس کے نتیجہ میں کنونشن مسلم لیگ وجود میں آئی جس میں ملک بھر سے اجارہ داریوں اور وڈیروں شامل کیا گیا تھا 1962؁کا آئین بنایا گیا مگر بعد میں یہ اقتدار کی منتقلی کی وجہ نہ بن سکا اور اقتدار صدر یحییٰ خان کو منتقل ہو گیا جس نے بعد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر یہاں اپنا نظام قائم کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا حالت مجبوری میں 1970؁ میں انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اکثریتی ووٹ حاصل کیے 1973کا آئین بنایا گیا جس کی بعض آئینی شقوں کے بارے میں ملک کے آمیر اور جاگیر طبقات کو تحفظات حاصل تھے ، یہ ایک وفاقی نظام تھا جس میں تمام صوبوں کو مالیاتی اور صوبائی خود

مختاری حاصل ہونا تھی 1977کے انتخابات میں دھاندلی کی تحریک چلائی گئی جس کے نتیجہ میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے آئین کو معطل کر دیا اس نے اپنا حلقہ انتخاب بنانے کیلئے بلدیاتی ادارے قائم کیے اور غیر جماعتی انتخابات کروائے جس کے بعد اس نے پاکستان مسلم لیگ قائم کی جس میں حسب روایت سابق دور اقتدار سے وابسطہ رہنے والے خاندنوں کو شامل کیا گیا جنرل ضیاء الحق نے ملک مین سیاسی کلچر کو ختم کرنے کیلئے ایم کیو ایم اور دیگر قوم پرستوں کی حمایت کی اس عہد میں کارکنوں کو قید و بند کی صوبتیں برداشت کرنا پڑیں ۔جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں طوالت کی وجہ افغانستان میں روسی فوجوں کی امد بنی جس سے بے پناہ مال غنیمت جہاد افغانستان میں حصہ لینے کے نتیجہ میں حاصل ہوا ۔مگر حکومت کے کبھی بھی اقتصاد ترقی کے بارے میں کوئی اہداف نہیں رہے ہیں جنرل

ضیاء الحق نے آٹھویں ترمیم کے لئے ملک میں عملی طور پر صدارتی نظام نفاذ کر دیا گیا تھاکی ایک خادثہ میں وفات کے بعد دوبارہ انتخابات کروائے گئے ، جس کے نتیجہ میں اٹھارویں ترمیم کے تحت اختیار ات حاصل کرنے والے صدور نے چار جمہوری حکومتوں کو بر طرف کر دیا جن کے بعد جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالا اس نے بھی اختیار حاصل کرنے کیلئے ترمیم کی اس طرح ملک میں عملی طور پر صدارتی نظام نافذ رہا یاد رہے ان آمروں کو بر سر اقتدار لانے کے پس منظر میں عالمی قوتوں کے مفادات تھے جو کہ علاقے میں بڑھتی ہوئی سویت یونین کی مداخلت اور ترقی پسند سیاست کو روکنا چاہتے تھے آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے آئین کے بارے میں باعث طبقات تحفظار کا اظہار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کے صوبوں سے اختیارات لیکر مرکز کے حوالے کر دئے گئے کیونکہ ان بقول اٹھاوریں ترمیم میں صوبوں کو زیادہ

مالیاتی وسائل منتقل ہونے سے وفاق کیلئے مالی مسائل میں کمی ہوئی ہے کیونکہ اس کو فوج ، واپڈااور دیگر وفاقی محکموں کے اخراجات ادا کرنا ہوتے ہیںکچھ مبصرین تو یہ کہتے ہیں کراچی کو سندھ حکومت سے لیکر وفاق میں شامل کر دیا جائے ۔اگر ہم صدر ایوب خان کے دور حکومت کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے دریائوں کا پانی بیچ کر دو ڈیم تعمیر کئے گئے صوبائی اور لاثانی نفرتوں میں اضافہ ہوا ، ملک میں ون یونٹ قائم ہوا جس کے نتیجہ میں مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو گیا ملک میں جنرل ضیاء الحق کے عہد میں افغان جہاد میں حصہ لینے کے انعام میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے بھاری امداد دی گئی لیکن اس کو عوام کے ریلیف کیلئے استعمال نہیں کیا گیا دائیں بازو کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھرپور طور پر جہاد افغانستان میں حصہ لیا اور نوجوانوں کی کمک فراہم کی گئی ۔ سیاسی

جماعتوں کی قوتو کو کم کرنے کیلئے لاثانی اور فرقہ وارنہ تضادات کو فروغ دیا گیا ، ایم کیو ایم نے نسلی منافرت کے نام پر سندھ میں عرصہ دراز تک قتل و غارت کا سلسلہ جاری رکھا جو کہ صدر پرویز مشرف کے عہد حکومت میں جاری رہا ، ایسے انتہا پسندانہ اور آمرانہ اقدامات کے تحت شخصی اختیارات کا حصول صدارتی نظام کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے ایسے اقدامات کے بارے میں وفاقی نظام میں سوچا نہں جا سکتا ہے ۔ پارلیمنٹ نے صوبائی حکومت کے مسائل حل کرنے کیلئے اپریل 2010کا آئین کا پارلیمانی تشخص بحال کیا ۔ پارلیمانی نظام میں ایوان زریں اکثریتی رائے سے حکومت کا سربراہ وزیر اعظم منتخب کرتا ہے اس نظام میں فیصلہ سازی کا اختیار وزیر اعظم کو ہوتا ہے جو کہ وفاق کی اکائیوں سے منتخب اراکین اسمبلی کی کابینہ کے ذریعے ملک کے امور چلاتا ہے اور اسمبلی کے اراکین اور مشاورتی کونسلوں

کی رائے پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے ، صوبے اپنے متنازعہ مسائل کے حل کیلئے انہیں وفاقی مشاورتی کونسل میں لے جا سکتے ہیں ۔وفاقی نظام حکومت میں صوبوں کے مالی انتظامی دیگر امور کے اختیار ہوتے ہیں جس میں مرکز مداخلت نہیں کر سکتا ہے لہذا ملک کے استحکام کیلئے اٹھارویں ترمیم میں صدارتی نظام کی اتھارٹی کے ترامیم کرنے کے بارے میں سوچنا ایک پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہے، صدارتی نظام کے حامی اختیارات کے منبہ کو وزیر اعظم سے ایوان صدر منتقل کرنا چاہتے ہیں انہیں پارلیمانی تشخص بحال کرنے والی اٹھارویں ترمیم کھٹکتی ہے جس میں وہ سب سے زیادہ اہم مالی مسائل کی وفاق کی منتقلی کو قرار دیتے ہیں دراصل جھگڑا صوبوں اور مرکز کے درمیان مالیاتی امور کی تقسیم کے حوالہ سے ہے جس میں باعث طاقتور لابیوں کا عمل دخل بھی ہے ، صدارتی نظام کے قیام کے بارے

میں کوششیں غیر منتخب اور غیر سیاسی حکمرانوں کی طرف سے کی گئی ہیں مگر موجودہ تناظر میں جبکہ حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے اس ضمن میں قانون سازی کیلئے کوئی پیش رفت نہیں کی جا سکتی ہے ماضی میں پاکستان میں صدارتی نظام کی افادیت کو ثابت کرنے کیلئے قائد اعظم کی ڈائری ڈھونڈی گئی تھی جس کے بارے میں محترمہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان کو علم نہیں تھا جنرل ضیاء نے اٹھویں ترمیم اور جنرل پرویز مشرف نے سترویں ترمیم کے ذریعے صدارتی نظام مسلط کرنا چاہا ، پاکستان میں سیاست کے خد و حال اور نظریات سے معلوم ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ہی ہمیشہ سیاسی جماعتوں کا مطمہ نظر رہا ہے جبکہ آمریت پسند ہمیشہ صدارتی نظام کے حامی رہے ہیں پاکستان میں صدارتی نظام کے دوران صوبائی خود مختاری کے مسائل پیدا ہوئے ہیں علیحدگی پسند قوتیں مضبوط ہوئی ہیں ۔ اٹھاریں ترمیم کے بعد وفاقی ہم آہنگی قائم ہوئی ہیں ، جس سے علیحدگی پسند قوتیں کمزور ہوئی ہیں پارلیمانی جمہوریت نے ہی پاکستان کو سلامتی اور استحکام بخشا ہے صدارتی نظام کی خاطر منشور کو منسوخ کرنا پاکستان کے ساتھ ایک بڑی دشمنی ہوگی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *