تازہ ترین
ہوم / پاکستان / اگر میں آپ کو گندی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دوں تو یہ آپ کے کپڑو ں کا قصور ہے یا میری نگاہ کا۔۔۔وویمن ڈے پر خواتین کی جانب سے نازیباپلے کارڈز اٹھانے کے بعد مرد اینکر کا خاتون اینکر سے سوال،لڑکی کا ایسا جواب کہ سب دنگ رہ گئے

اگر میں آپ کو گندی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دوں تو یہ آپ کے کپڑو ں کا قصور ہے یا میری نگاہ کا۔۔۔وویمن ڈے پر خواتین کی جانب سے نازیباپلے کارڈز اٹھانے کے بعد مرد اینکر کا خاتون اینکر سے سوال،لڑکی کا ایسا جواب کہ سب دنگ رہ گئے

لاہور(نیوز ڈیسک ) گذشتہ ہفتے دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا جہاں دنیا کی طاقتور اور باصلاحیت خواتین کو ان کی خدمات کے لیے خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ایک طرف جہاں دنیاکی باصلاحیت خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے اپنا لوہا منوایا اور ”عورت ذات” کا نام روشن کیا وہیں کچھ خواتین نے لبرلزم کے نام پر ”عورت مارچ” کا انعقاد کیا جس میں کچھ خواتین نے ایسے پوسٹرز اُٹھائے جسے دیکھ کر عام خواتین میں غم و غصے کی ایک لہردوڑ گئی۔8 مارچ کو خواتین کی طرف سے عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا تاہم عورت مارچ میں خواتین نے نازیبا پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا اور عورت مارچ میں شریک خواتین پر شدید تنقید کی گئی،اسی حوالے سے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاتون اینکر کا کہنا تھا کہ مردوں کی نظروں کا سامنا تو ہم بچپن سے ہی کرتی ہیں اور اسی چیز کا مقابلہ کر کے عورت مضبوط

ہوئی ہے۔اگر کسی کی نظر گندی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں گندے کپڑے پہن کر معاشرے میں نکل آئی ہوں۔اور عورت مارچ کے اندر ایک پلے کارڈ پر یہ بھی لکھا تھا کہ ‘ نظر تمہاری گندی اورکپڑوں کا دھیان میں کروں’۔کیونکہ میں جو بھی پہنوں یہ میری زندگی اور میری مرضی ہے۔جس پر پروگرام کے اینکر منصور علی خان نے کہا کہ اگر میں آپ کو گندی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دوں تو کیا یہ میری نگاہ کا قصور ہے یا آپ کے کپڑوں کا قصور ہوگا؟۔جس پر خاتون نے اینکر نے جواب دیا کہ اس کام میں دونوں کا قصور ہیں۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کی قصور وار عورت ہو ہمیں اس حوالے سے لوگوں کو ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایک مرد عورت کی طرف دیکھ رہا ہے تو اس میں سارا قصور عورت کا نہیں ہے اس کی مرضی ہے جو بھی پہنے۔ اگر میں آپ کو گندی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دوں تو کیا یہ میری نگاہ کا قصور ہے یا آپ کے کپڑوں کا قصور ہوگا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *