تازہ ترین
ہوم / پاکستان / جسمانی ریمانڈ سے چھٹکارہ پانے کیلئے آغاسراج درانی نے نیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے، سب کچھ اُگل دیا ،چونکادینے والے انکشافات

جسمانی ریمانڈ سے چھٹکارہ پانے کیلئے آغاسراج درانی نے نیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے، سب کچھ اُگل دیا ،چونکادینے والے انکشافات

کراچی (نیوز ڈیسک) اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے نیب کے جسمانی ریمانڈ سے چھٹکارا پانے کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد آغا سراج درانی نے نیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ جس کے تحت سندھ اسمبلی کا اجلاس دس دن کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔قانونی ماہرین نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو مشورہ دیا کہ اگر روز اسمبلی آئے تو ریمانڈ میں توسیع ہوتی رہے گی۔ تفتیش پوری نہ ہوئی تو نیب ریمانڈ میں توسیع کروا لے گی۔ آغا سراج درانی کی مشورہ دیا گیا ہے کہ آپ کچھ دن نیب کی تحویل میں ہی رہیں۔ قبل ازیں سندھ اسمبلی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا

تھا اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید نیب کی جانب سے کچھ ریلیف دیا جائے گا۔لیکن نیب کی جانب سے ریلیف ملنے کی بجائے بار بار ریمانڈ میں توسیع کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین نے آغا سراج درانی اور پیپلز پارٹی کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ سندھ اسمبلی کا اجلاس دس روز کے لیے مؤخر کر کے نیب کی تحویل میں رہیں۔ نیب اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد آغا سراج درانی کو جیل منتقل کرے گی جہاں سے انہیں طبی بنیادوں پر اسپتال منتقل کیا جائے گا۔اور وہ اسپتال میں ہی رہیں گے۔ یاد رہے کہ 20 فروری کو نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا تھا۔ آغا سراج درانی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ آغا سراج درانی پر آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری خزانے میں خوردبرد کا کیس ہے۔واضح رہے کہ اپریل 2018ء میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی چھان بین ہوگی۔ سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف تین انکوائریز کا حکم دیا گیا تھا، جن میں آمدن سے زائد اثاثوں، غیر قانونی بھرتیوں اور ایم پی اے ہاسٹل سمیت سندھ اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر میں کرپشن شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *