تازہ ترین
ہوم / انٹرنیشنل / نمازیوں کاقتل عام کرنیوالےدہشتگرد نے اتنی مہارت سے مشین گن کیسے چلائی، وہ نیوزی لینڈ میں کہاں سے تربیت حاصل کررہا تھا

نمازیوں کاقتل عام کرنیوالےدہشتگرد نے اتنی مہارت سے مشین گن کیسے چلائی، وہ نیوزی لینڈ میں کہاں سے تربیت حاصل کررہا تھا

نیوزی لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ایک سفید فام انتہا پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 49 مسلمان شہید ہو گئے۔ مساجد پر حملے کے مرکزی ملزم سے متعلق گذشتہ روز اطلاع موصول ہوئی کہ وہ آسٹریلوی شہری ہے جس کا تعلق آسٹریلیا کی انتہائی نارمل فیملی سے ہے۔ تاہم اس حملے کی تفتیش کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ حملے کا مرکزی ملزم برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ نیوزی لینڈ کے گن کلب کا ممبر تھا۔تفصیلات کے مطابق برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ جنوبی آئی لینڈ میں ملٹن میں موجود بروس رائفل کلب کا ممبر تھا۔ حملے میں استعمال کی جانے والی رائفل کا استعمال بھی برینٹن نے اسی کلب کے ممبر کے طور پر سیکھا تھا۔ برینٹن کی اس

کارروائی پر رد عمل دیتے ہوئے کلب کا کہنا تھا کہ برینٹن نے بطور کلب ممبر ہمیں دھوکہ دیا۔کلب کے نائب صدر اسکاٹ ولیمز نے کہاکہ برینٹن نے کبھی ہم میں سے کسی سے بھی مسلمانوں سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا تھا، وہ دوسرے لوگوں کی طرح بالکل نارمل رہتا تھا۔برینٹن کلب کا ممبر تھا اور اُس نے ایک خاص فاصلے سے فائرنگ کی تربیت بھی حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے برینٹن کو رائفل ای آر 15 چلاتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نیوزی لینڈ میں جس کے پاس اسٹینڈر فائر آمرز لائسنس ہو وہ بآسانی رائفل اے آر 15 خرید سکتا ہے۔ لیکن اس کے استعمال پر کچھ شرائط عائد ہوتی ہیں۔ ایک طرف جہاں ہم حیران اور شاک میں ہیں وہیں دوسری جانب ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ برینٹن نے یہ سب کر کے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔واضح رہے کہ برینٹن نے 2018ء میں اس گن کلب میں شمولیت اختیار کی تھی۔ نائب صدر نے مزید کہا کہ برینٹن ہمیشہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ کلب میں موجود مجھ سمیت دیگر 100 لوگ بھی برینٹن کی اس حرکت پر کافی شاک میں ہیں۔ کلب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم تحقیقات میں پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ برینٹن دیکھنے میں ایک عام شخص ہی لگتا تھا۔کسی کو اُس سے ایسی کوئی توقع نہیں تھی۔ دوسری جانب انسداد دہشتگردی کے ماہر ایک افسر نے برینٹن کی ایک رائفل کی AR-15 کے طور پر شناخت کی۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشتگردانہ حملے کے بعد نیوزی لینڈ نے اسلحہ قوانین میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج صبح وزیراعظم نیوزی لینڈ کا کہنا تھا اب وقت آگیا ہے اسلحہ قوانین تبدیل کیے جائیں، واقعہ میں ملوث شخص کے پاس بندوق کا لائسنس تھا۔حملے کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کی۔ وقت آگیا ہے گن قوانین تبدیل کیے جائیں۔ اس حوالے سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا تاہم برینٹن کے نیوزی لینڈ کے گن کلب کا ممبر ہونے کا انکشاف سب کے لیے ہی حیران کُن تھا اور ممکنہ طور پر اسی انکشاف کے پیش نظر نیوزی لینڈ نے اسلحہ قوانین میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *