تازہ ترین
ہوم / صحت و تعلیم / ہر 2گھنٹوں بعد یہ معمولی سا کام کریں، جسم کی چربی اتنی تیزی سے پگھلے گی کہ حیران رہ جائینگے

ہر 2گھنٹوں بعد یہ معمولی سا کام کریں، جسم کی چربی اتنی تیزی سے پگھلے گی کہ حیران رہ جائینگے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) غذائی امو رکی ماہر لمیٰ النائلی نے جسم کی چربی پگھلانے کیلئے 10سالہ تجربات کا نچوڑ پیش کردیا۔ النائلی کا کہناہے کہ ہر2 گھنٹے میں معمولی خوراک لی جائے اور ناشتہ پابندی سے کیاجائے۔ نائلی نے بتایا کہ محدود خوراک سے انکی مراد ایک سیب یا معمولی سینڈوچ ہے۔ اس سے جسم میں انسولین کے ہارمونز کی شرح بڑھے گی اور اسکے نتیجے میں چربی پگھلنے کے تناسب میں اضافہ ہوگا۔ النائلی نے یومیہ ورزش کو ضروری قرار دیا۔ انکا کہناہے کہ ہمارے عضلات جتنے توانا ہونگے اتنا ہی زیادہ چربی پگھلنے کی شرح میں اضافہ ہوگا۔یہ بھی پڑھیئے:جم کی بھاری فیس دے کرمشقت اور کٹھن ڈائٹنگ کرنے سے بھی بسااوقات موٹاپا ختم کرنے میں ناکامی کا منہ

دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ جیسے ہی اس جدوجہد میں کمی آئے موٹاپا واپس آنا شروع ہو جاتا ہے۔ تاہم موٹاپے کے شکار لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کہ اب سنگاپور کے سائنسدانوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک چھوٹی سی ’سنی پلاسٹ‘ نماایسی ڈیوائس ایجاد کر لی ہے جو محض جسم کے اوپر چپکانے سے ہی موٹاپے سے نجات مل جائے گی۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سنگا پور کی نن ینگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے سائنسدان کے ایجاد کردہ اس پیچ (Patch)میں مائیکرو سوئیاں لگی ہوئی ہیں جو سر کے بالوں سے بھی زیادہ باریک ہیں۔ ان سوئیوں پر چربی پگھلانے والی دوایات لگی ہوتی ہیں جو جسم میں موجود نقصان دہ سفید چربی کو پگھلا کر توانائی میں تبدیل ہونے والی براؤن چربی میں تبدیل کرتی ہیں۔3 قدرتی غذائیں جو سردیوں میں آپ کے پیٹ کی چربی کو چٹکیوں میں پگھلا کر رکھ دیں۔جب یہ پیچ جسم کے اوپر چپکایا جاتا ہے تو سوئیوں کے ذریعے دوا انسان کے جسم میں داخل ہوتی ہے اورجلد کے عین نیچے موجود سفید چربی کی تہہ تک براہ راست پہنچ کر اسے براؤن چربی میں تبدیل کرنا شروع کر دیتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پیچ کے محض چار ہفتے کے استعمال سے جسم کی ایک تہائی چربی سے نجات مل جاتی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ، اسسٹنٹ پروفیسر ژو چن جی کا کہنا تھا کہ ”اس پیچ کے چوہوں پر تجربات کیے گئے ہیں جن کے نتائج متاثر کن رہے۔ ہم نے جب چوہوں کو پیچ لگایا تو پانچ دن بعد ہی ان کی سفید چربی براؤن ہونی شروع ہو گئی، جس سے ان میں توانائی خرچ ہونے کا عمل تیز ہو گیا اور چار ہفتے میں ان کے وزن میں ایک تہائی کمی واقع ہو گئی۔ہم نے پیچ کی سوئیوں کے ذریعے جتنی دوائی استعمال کی اس کی مقدار کھائی جانے والی یا انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کی جانے والی ادویات کی نسبت کہیں کم تھی۔“ رپورٹ کے مطابق اس پیچ کی تیاری پر صرف 2.60پاؤنڈ (تقریباً 388روپے) لاگت آئی۔چنانچہ تحقیقاتی ٹیم پرامید ہے کہ یہ پیچ موٹاپے کاانتہائی سستا اور موثرترین علاج ثابت ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *