تازہ ترین
ہوم / شوبز / خواتین کی طرح مردوں کےآئٹم سانگ،اداکارہ حریم فاروق نے نیا شوشہ چھوڑ دیا

خواتین کی طرح مردوں کےآئٹم سانگ،اداکارہ حریم فاروق نے نیا شوشہ چھوڑ دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اداکارہ حریم فاروق نے کہا ہے کہ جب خواتین کسی فلم میں گانے پر ڈانس کرتی ہے تو ان کی پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ کہا جاتا ہے جب کہ کوئی مرد اس طرح کی پرفارمنس کرتا ہے تو اسے ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔’زیبسٹ‘ میں ہونے والے میڈیا فیسٹیول کے ایک ایونٹ میں پینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے تقریب میں بیٹھے افراد سے سوال کیا کہ جب کسی گانے میں کوئی مرد اداکار سولو (اکیلے) ڈانس کرے، تو کیا اسے بھی ’آئٹم سانگ‘ کہا جانا چاہیے؟اداکارہ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کوئی بھی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حریم فاروق کے ساتھ پینل میں بیٹھے اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ یقینا مرد اداکار کے ایسے ڈانس کو بھی ’آئٹم سانگ‘

ہی کہا جائے گا۔عثمان خالد بٹ کے جواب پر حریم فاروق کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ کہہ رہے ہیں باقی کوئی بھی مرد کے سولو ڈانس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں سمجھ رہا اور درحقیقت یہی بڑا مسئلہ ہے۔حریم فاروق کی جانب سے ’آئٹم سانگ‘ پر بحث کو چھیڑنے پر پینل کی شریک مہمان صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ بولی وڈ چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور نے اس طرح کے کچھ گانے کیے ہیں، جس میں وہ سولو ڈانس کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ان کی اس پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔پینل کے شرکاء نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد-2‘ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اسی فلم کے ایک گانے میں ہیرو اپنی شرٹ تک اتار دیتے ہیں، تاہم اسے نامناسب یا ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔پینل نے پاکستانی صحافت اور شوبز انڈسٹری میں خواتین کے کردار، اہمیت اور افادیت پر بات کی اور کئی ایسے مسائل کو اجاگر کیا، جن پر عمومی طور پر بات نہیں کی جاتی۔پینل کے شرکاء میں اداکار عثمان خالد بٹ، حریم فاروق، منشا پاشا اور فیفی ہارون شامل تھیں، جب کہ پینل کی میزبانی کے فرائض منال فہیم خان نے نبھائے۔پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین فلم سازوں کی کمی پر بات کرنے سمیت انڈسٹری پر مرد فلم سازوں کی فوقیت پر بھی بات کی۔اداکارہ منشا پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی نمائندگی کم ضرور ہے، مگر اس میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ساتھ ہی منشا پاشا نے اس بات سے بھی اختلاف کیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ خواتین کے پاس فیصلہ سازی کی قوت نہیں ہوتی۔پینل کے شرکاء نے پاکستانی فلم انڈسٹری میں خواتین کی اہمیت و افادیت سمیت خواتین کی جنسیت اور انہیں فلموں، ڈراموں، گانوں اور اشتہارات میں ایک خاص زاویے سے دکھانے جیسے معاملات پر بھی بات کی۔پینل کے شرکاء کا کہنا تھا کہ

خواتین کو نہ صرف بعض فلموں اور ڈراموں بلکہ اشتہارات میں بھی جنسیت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔خالد عثمان بٹ کا کہنا تھا کہ خواتین کو اشتہارات میں دکھاتے ہوئے یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگر ان کا رنگ گورا نہیں ہوگا تو وہ آگے نہیں بڑھ سکیں گی، اسی طرح یہ بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر ان کے جسمانی خدوخال یا بال گھنے اور ڈینڈرف سے آزاد نہیں ہوگے تو وہ کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔حریم فاروق نے پینل کے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے حال ہی میں اداکارہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز ملنے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بات کی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب ایک خاتون کو تمغہ امتیاز ملا تو ان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے لیکن جب وہی ایوارڈ کسی مرد کو ملا

تو کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔حریم فاروق نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مہوش حیات کے کردار پر سوالات اٹھانے والوں نے اس بات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے مرد کو کیسے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا؟اسی بحث پر صحافی فیفی ہارون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف مہوش حیات کو تمغہ امتیاز بلکہ ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام اور شرمین عبید چنائی کو آسکر ایوارڈ حاصل کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *