تازہ ترین
ہوم / انٹرنیشنل / سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کی سب سے بڑی پریشانی ختم، دہائیوں سے رائج کفیل سسٹم کی جگہ ’گرین کارڈ‘ سسٹم لاگو کر دیا گیا

سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کی سب سے بڑی پریشانی ختم، دہائیوں سے رائج کفیل سسٹم کی جگہ ’گرین کارڈ‘ سسٹم لاگو کر دیا گیا

ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے رائج کفیل سسٹم کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ’گرین کارڈ‘ سسٹم نے لے لی ہے۔ اس خبر کو مملکت میں مقیم 90 لاکھ کے لگ بھگ غیر مُلکیوں کی جانب سے بہت خوشی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ جبکہ غیر مُلکی کاروباری حضرات اور سرمایہ کار بھی اس نئے نظام کے اجراءپر بہت مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔گرین کارڈ رہائشی سکیم کے باعث اب مملکت میں مقیم غیر مُلکیوں کو کسی سعودی آجر یا کفیل کے ماتحت رہنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ گرین کارڈ رہائشی سکیم کی منظوری بُدھ کے روز سعودی شُوریٰ کونسل کی جانب سے دی گئی۔ اس اقدام کے باعث بڑی تعداد میں غیر مُلکی سرمایہ کار اور باہُنر افراد سعودی مملکت کی جانب راغب ہوں گے۔اس سکیم سے فائدہ اُٹھانے کے لیے چند شرائط بھی ہیں جن میں کسی مجرمانہ ریکارڈ کا حامل نہ ہونا، کارآمد پاسپورٹ کا ہونا

، صحت کی تسلّی بخش رپورٹ اور اچھی کریڈٹ رپورٹ شامل ہیں۔گرین کارڈ رہائشی سکیم کے تحت دو کیٹگریز رکھی گئی ہیں جن میں عارضی اقامہ اور توسیع شُدہ اقامہ شامل ہیں۔ اقامہ کے نئے نظام کے اجراءسے غیر مُلکیوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ اس نظام سے مستفید ہونے والوں کے لیے ایئرپورٹس پر مخصوص قطاریں ہوں گی۔ گرین کارڈ سکیم کے حامل افراد کو مملکت سے باہر جانے اور واپس آنے کے حوالے سے کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔اس سکیم سے نجی شعبے، کامرس اور انڈسٹری میں ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے۔ غیر مُلکیوں کو مملکت میں اپنی جائیداد اور ٹرانسپورٹ رکھنے کی سہولت بھی دی جائے گی اور وہ اپنی مرضی سے ملازم بھی بھرتی کر سکیں گے۔ اس طرح کئی دہائیوں پُرانے کفالہ سسٹم کا خاتمہ ہو گیا جس میں مملکت میں مقیم غیر مُلکیوں کو معاہدے کے تحت کسی آجر یا کفیل کے ماتحت کام کرنا پڑتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *