تازہ ترین
ہوم / پاکستان / آپ کی بچی اغوانہیں ہوئی بلکہ کسی کیساتھ بھاگ گئی ہوگی، پولیس اہلکاروںکا 10سالہ بچی فرشتہ کے اہلخانہ کیساتھ ایسا رویہ کے انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا،اہلکار متاثرہ خاندان سے تھانے میں صفائیاں کراوتے رہے

آپ کی بچی اغوانہیں ہوئی بلکہ کسی کیساتھ بھاگ گئی ہوگی، پولیس اہلکاروںکا 10سالہ بچی فرشتہ کے اہلخانہ کیساتھ ایسا رویہ کے انسانیت کا سر شرم سے جھک گیا،اہلکار متاثرہ خاندان سے تھانے میں صفائیاں کراوتے رہے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسلام آباد میں دس سال کی بچی کے اغوا ہونے کے بعد پولیس کے رویے نے سب کے سر شرم سے جھکا دئیے۔پولیس اہلکار متاثرہ خاندان کی رپورٹ درج کرنے کی بجائے ان سے صفائیاں کرواتے رہے اور کہا کہ آپکی بچی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔اس حوالے سے اب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 10 سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مقدمہ ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن اوردیگر اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا۔درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ بچی کو ڈھونڈنے اور مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے کے کئی چکر لگائے۔ایس ایچ او نے ڈھونڈنے کی بجائے کہا کہ آپکی بچی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔پولیس اہلکار درخواست گزار سے تھانے کی صفائیاں کرواتے رہے۔مقدمے میں درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ ایس ایچ او کے خلاف محکمہ کاروائی کی جائے

۔خیال رہے کہ گذشتہ روز تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ کو معطل بھی کر دیا گیاتھا۔خیال رہے دس سالہ بچی فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع مہمند سے ہے،پولیس کے مطابق 15 مئی کوچک شہزاد سے لاپتہ بچی کوقتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا، فرشتہ کی نعش کو جنگل سے بر آمد کیا گیا، پوسٹ مارٹم کر لیا گیا.بچی کی لاش مسخ شدہ حالت میں جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔وزیرداخلہ اعجازاحمد شاہ نے دس سالہ بچی فرشتہ مہمند کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کاروائی اور سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کئے تھے،بچی کی تصاویر تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو یہاں بھی صارفین نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ فرشتہ کی لاش دیکھ کر واضح ہوا کہ اسے کس قدر درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔سوشل میڈیا پر ” جسٹس فار فرشتہ ” کے نام سے مہم بھی چل پڑی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *