تازہ ترین
ہوم / انٹرنیشنل / بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بوکھلاہٹ کا شکار،شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی کو دیکھتے ہی فوراََ کیا کام کیا

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بوکھلاہٹ کا شکار،شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی کو دیکھتے ہی فوراََ کیا کام کیا

شنگھائی (نیوز ڈیسک)بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے شنگھائی اجلاس میں پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے برابر سے جگہ تبدیل کرلی۔بھارتی وزیرخارجہ پاکستان دشمنی میں سفارتی آداب بھول گئیں۔ سشما سوراج نے بوکھلاہٹ و بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے برابر سے جگہ بدل لی۔کرغزستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہیں۔اجلاس کا آغاز ہوا تو گروپ فوٹو کے دوران سشما سوراج بے خیالی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے برابر میں آکر کھڑی ہوگئیں تاہم پھر انہوں نے شاہ محمود قریشی کو دیکھا تو

یکم دم بوکھلا گئیں اور اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری طرف جاکر کھڑی ہوگئیں۔اس واقعے کی وڈیو بھی آئی جس میں سشما سوراج کو جگہ تبدیل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔۔واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا دو روزہ اجلاس آج سے کرغز کے شہر بشکیک میں شروع ہو رہا ہے جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ/مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میںپاکستان کی نمائندگی کریں گے۔وہ تنظیم کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کریں گے اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ خصوصی سائیڈلائن ملاقاتیں بھی کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی وزیر خارجہ کی خصوصی ملاقات طے ہے۔بشکک روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بشکک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتیں کروں گا، اس کے علاوہ 3 اہم دو طرفہ ملاقاتیں طے ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش ہے، چین اور روس کے وزرائے خارجہ سے باالخصوص ملنا چاہوں گا۔انہوں نے کہا کہ چاہوں گا کہ مستقل 5 ارکان سے مشاورت کروں، واپسی پر صوصی اجلاس میں بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ جائزے کے بعد ایرانکے وزیر خارجہ کو واضح نقطہ نظر دے سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *