تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / گرفتاری کی اجازت ملتے ہی نیب ٹیم متحرک، ٹیم آصف زرداری کو گرفتار کرنے کیلئے پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئی

گرفتاری کی اجازت ملتے ہی نیب ٹیم متحرک، ٹیم آصف زرداری کو گرفتار کرنے کیلئے پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت سے متعلق جعلی اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔عدالت نے آصف رزداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت خارج کر دی جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعد نیب کی ٹیم آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس روانہ ہو گئی ہے۔سابق صدر آصف علی زرداری عدالت کا فیصلہ آںے سے قبل ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے تھے تاہم پھر بھی عدالت میں پولیس کی بھاری نفری موجود تھیت۔نیب ذرائع کے مطابق آصف زرداری کو آج ہی گرفتار کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آج سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے

شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب سردارمظفر اور اسپشل پراسیکیوٹرجہانزیب بروانا پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔نیب کی جانب سےاسپیشل پراسیکیوٹر جہانزیب بروانا نے دلائل دئے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے مکمل طور پر دلائل دئے، کوئی چیز رہ گئی ہے توعدالت کو بتایا جائے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جوابی دلائل دئے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا براہ راست اکاؤنٹس کھلوانے کا تعلق نہیں ہے۔نیب کا روزانہ کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف آپریشن جاری ہے، پہلے جواب الجواب کے ساتھ دستاویزات دیئے ہیں، جعلی اکاؤنٹ کھولنے کی حد تک آصف زرداری ملزم نہیں ہیں۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے چئیرمین نیب کی آئینی اختیارات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا چئیرمین نیب آرڈیننس 26 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتا، چئیرمین نیب کے پاس سپلیمنٹری ریفرنس کا اختیار نہیں ، آصف زرداری کو اس موقع پرگرفتار نہ انکوائری کی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *