تازہ ترین
ہوم / پاکستان / آصف زرداری کا بچنا ناممکن ہوگیا، 80سے زائد گواہ، کئی وعدہ معاف گواہ بن گئے، نیب نے درجن سے زائد ریفرنسز بھی تیار کرلیے

آصف زرداری کا بچنا ناممکن ہوگیا، 80سے زائد گواہ، کئی وعدہ معاف گواہ بن گئے، نیب نے درجن سے زائد ریفرنسز بھی تیار کرلیے

اسلام آباد (نیو زڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری کا مقدمات سے بچ نکلنا اب مشکل ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیب کی زیر حراست آصف علی زرداری کے خلاف 80 سے زائد گواہ ہیں جن میں کئی گواہ وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سابق صدر آ صف علی زرداری کی گرفتاری اور ان کے خلاف ہونے والی انکوائریز کے حوالے سے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ آ صف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ اور دیگر مقدمات میں 80 سے زائد افراد نے نہ صرف گواہیاں دیں بلکہ کئی افراد وعدہ معاف گواہ بھی بن گئے۔ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ منی لانڈرنگ ، جعلی اکاونٹس اور دیگر معامالات میں درجن سے زائد ریفرنس تیار ہیں جو آ صف علی زرداری کے خلاف دائر کئے جا سکتے ہیں ۔ذرائع کے انوسٹی گیشن میں کئی کمپنیز کئی معروف نام اور کئی ایسے نام بھی سامنے آئے جن کو تو یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ منی لانڈرنگ غیر قانونی طریقہ سے پیسے نکالنے کا کام کس کے لیے کر رہے تھے۔ذرائع

کے مطابق پاکستان کے ایک قریبی دوست ہمسایہ ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت بھی منی لانڈرنگ کے کام میں آ صف زرداری کی مدد کرتی رہی ہے اور بہت سی رقم خاص کر اس کی منی ایکسچینج کے ذریعے ٹرانسفر ہوئی ۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے انوسٹی گیشن چارٹ بنا رکھا ہے جس میں باقاعدہ یہ بتایا گیا کہ اندر ون و بیرون ملک کس کس کے ذریعے کس کس طرح رقم جاتی کہاں کہاں سے رقم جاتی اور کون کون وصول کرتا تھا ۔چارٹ کے مطابق بیس ایسے افراد ہیں جو مختلف اکاؤنٹس سے پیسے نکالتے تھے ان میں ایم اشرف، جگدیش، طارق سلطان ، ساجد حسین ، ایم مشتاق، اسد علی ، حسن بروہی ، قاسم علی ، ایم فرحان ، ایم افضل ، شہزاد عالم ، سعد سمیر، سکندر عبدالستار ، مکرم محفوظ، عمران کیانی ، عبد الغنی ، مجاہد شاہ ، اخلاق احمد ، محمد یحیٰی شامل ہیں ۔ سابق صدر جو کہ جعلی اکاؤنٹ کیس میں گرفتار ہوئے ان پر منی لانڈرنگ کے بھی الزامات ہیں جس میں باقاعدہ ان کے خلاف ریفرنس تیار ہے جس کے تحت اب سابق صدر کا مقدمات سے بچ نکلنا نا ممکن ہو گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *