تازہ ترین
ہوم / انٹرنیشنل / انتہا پسند بھارتیوں نے ظلم کی انتہا کردی، 24سالہ مسلمان نوجوان پر 7گھنٹے تک بہیمانہ تشدد ،ہندوآنہ نعرے لگوانے کے بعد قتل کردیا

انتہا پسند بھارتیوں نے ظلم کی انتہا کردی، 24سالہ مسلمان نوجوان پر 7گھنٹے تک بہیمانہ تشدد ،ہندوآنہ نعرے لگوانے کے بعد قتل کردیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارت میں اقلیتوں کو بالعموم اور مسلمانوں کو بالخصوص انسانیت سوز بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں خوف و دہشت میں مبتلا کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس ضمن میں خاموشی بلکہ کسی حد تک انتہا پسند جنونی ہندوؤں کی سرپرستی نے مجرمان کے حوصلے اتنے بلند کردیے ہیں کہ اب انہیں بے گناہ مسلمان کی جان لینے میں بھی تامل نہیں ہوتا ہے۔شرمناک امر ہے کہ پولیس بھی مظلومین کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مجرمان کی طرفداری کرنے میں لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی ’جمہویت‘ کہلانے کے دعویدار بھارت میں مسلمان سخت عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔انسانیت کا سر شرم

سے جھکا دینے والا ایک واقعہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے جس کے مطابق جھار کھنڈ میں 24 سالہ بھارتی مسلمان نوجوان ’شمس تبریز‘ کو پہلے سرائے کیلا کے علاقے کھرسواں میں ہجوم نے پکڑ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر مارنے پیٹنے کے دوران ہی اس سے ہندوآنہ نعرے ’ جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ لگوائے۔بھارت کے علاقے پونے میں ویلڈنگ کا کام کرنے والا شمس تبریز عیدالفطر کی چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی علاقے میں آیا تھا کہ جنونی ہندوؤں کا نشانہ بن گیا۔شمس تبریز کو کس قدر بے رحمانہ طریقے سے مارا پیٹا گیا؟ اس کا اندازہ مؤقر بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہجوم نے پہلے اسے رسیوں سے باندھا اور پھر پول کے ساتھ باندھ کر سات گھنٹے سے زائد عرصے تک اس پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔بہیمانہ تشدد کے دوران اس سے زبردستی ہندوآنہ نعرے لگوائے گئے اور جب وہ بے ہوش ہو گیا تو اسے پولیس کے حوالے کردیا۔ ہجوم نے اس پر موٹر سائیکل چوری کے شبہے کا الزام بھی عائد کیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمس تبریز پر ڈھائے جانے والے مظالم کی باقاعدہ وڈیو بنائی گئی جو اب علاقے میں ’وائرل‘ ہورہی ہے جس سے مسلمانوں میں سخت خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔این ڈی ٹی وی کے مطابق شمس تبریز کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ زخمی کا پہلے علاج کرایا جائے لیکن اس نے ایک نہ سنی اور ابتدائی معائنے کے بعد اسے ضلعی جیل بھیج دیا جہاں پہنچ کر اس کی حالت غیر ہوگئی جس کے بعد جب پولیس ضلعی اسپتال لے کر گئی تو وہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔شمس تبریز کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بیمار تھا جس کے بعد اسپتال میں انتقال کر گیا۔

این ڈی ٹی وی کو پولیس نے بتایا کہ اس کے لواحقین کے کہنے پر ایف آئی آر درج کرلی ہے اور تحقیقات شروع کردی ہیں۔متاثرہ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ہجوم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور پولیس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کہ اس نے شمس تبریز کا مناسب علاج نہیں ہونے دیا وگرنہ وہ جان سے نہ جاتا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض محال شمس تبریز نے موٹر سائیکل چرائی بھی تھی تو قانون نے کسی بھی ہجوم کو یہ اجازت کب اور کیسے دی ہے کہ وہ اپنی عدالت لگا کر فیصلہ کرے اور کسی بھی بے گناہ کی جان لے لے؟یہاں یہ سوال بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اگر وہ چور تھا تو اس سے ہندوآنہ نعرے لگوانے میں کیا

’حکمت‘ پوشیدہ تھی؟کیا مودی سرکار، اس کے وزیرداخلہ اور ریاستی ذمہ داران اپنی سرکاری پولیس سے یہ جاننے کی زحمت کریں گے کہ جب جنونیوں کا ہجوم انتہائی بہیمانہ طریقے سے ایک انسان کی جان کے درپے تھا تو اس وقت وہ کہاں تھی؟ یہ کہ پرتشدد واقع کی وڈیو وائرل کرنے والوں کے خلاف اس نے کیا کارروائی کی ہے؟ اور یہ کہ وڈیو میں دکھائی دینے والوں کے خلاف اس نے کیا کارروائی کی ہے؟بھارت میں تسلسل کے ساتھ پہلے گاؤ ماتا کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے گئے اور اس کے بعد گائے کے گوشت کے شبہ میں معصوم انسانوں کی جانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ جنونی ہندوؤں نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے جہاد سے محبت کرنے، اسمگلنگ کرنے اور چوری کرنے جیسے گھناؤنے الزامات بھی لگائے لیکن ثبوت کوئی پیش نہیں کرسکے مگر مظلوموں کی کسی بھی جگہ شنوائی نہیں ہوئی جو انتہائی شرمنا ک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *