تازہ ترین
ہوم / پاکستان / این آر او کی خبروں کا ڈراپ سین، وزیراعظم نے پہلی مرتبہ کھل کر حقیقت بیان کردی

این آر او کی خبروں کا ڈراپ سین، وزیراعظم نے پہلی مرتبہ کھل کر حقیقت بیان کردی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی کی جانب سے این آر او کے لیے براہ راست مجھ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، ذرائع کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں، اپوزیشن احتجاج کا شوق پورا کرے کوئی پرواہ نہیں، ہمیں کارکردگی سے جواب دینا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کو معاشی بحران کے ذمہ داروں سے آگاہ کریں، بجٹ منظوری قانونی تقاضہ ہے، تمام اراکین اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے این آر او کے لیے براہ راست اپروچ نہیں کیا گیا، سب کو

معلوم ہے میں کرپشن کیسز پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، اپوزیشن اے پی سی کرے یا تحریک چلائے، این آر او نہیں ملے گا۔اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے لیے ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کیا ہے جب کہ پاک فوج نے فاٹا اور بلوچستان کے لیے اپنی تنخواہوں کا اضافہ نہیں لیا۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں امیر قطر کے دورہ پاکستان کے بعد سے این آر او ہونے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں کہا کہ اپوزیشن احتجاج کا شوق پورا کر لے مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ منظوری قانونی تقاضہ ہے، تمام اراکین اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا معاشی سمت کا تعین کر دیا ہے، بحران سے نکل رہے ہیں، انہوں نے ہدایت کی کہ اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں۔اراکین عوام کو معاشی بحران کے ذمہ داروں سے آگاہ کریں۔سب کو معلوم ہے میں کرپشن کیسز پر سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کیا ہے۔پاک فوج نے فاٹا اور بلوچستان کے لیے اپنی تنخواہوں کا اضافہ نہیں لیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان کئی مرتبہ این آر او نہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے صاف کہہ رکھا ہے کہ چوروں اور لٹیروں کا احتساب ہو گا اور کسی کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیا جائے گا۔اور اسی عزم کا اعادہ انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی کیا۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی آج بجٹ پر بحث مکمل کر لے گی، بجٹ پر اب تک 45 گھنٹے سے زائد بحث کی جاچکی ہے ۔434 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *