تازہ ترین
ہوم / پاکستان / متحدہ اپوزیشن کی اے پی سی میں اختلافات، مولانافضل الرحمن نے ایسی کیا تجاویز پیش کی جن کو دیگر جماعتوں نے مسترد کردیا

متحدہ اپوزیشن کی اے پی سی میں اختلافات، مولانافضل الرحمن نے ایسی کیا تجاویز پیش کی جن کو دیگر جماعتوں نے مسترد کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) متحدہ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس میں مولانافضل الرحمان نے اجتماعی استعفوں اور یوم سیاہ کی تجویز دیتے ہوئے کہا استعفے دے کر حکومت پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے. تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف کل جماعتی کانفرنس جاری ہے مولانافضل الرحمان کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں.کانفرنس میں مسلم لیگ(ن)‘پیپلزپارٹی، اے این پی، قومی وطن پارٹی ، نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے وفود شریک ہیں.نون لیگ سے شہبازشریف، مریم نواز، شاہد خاقان ، راجہ ظفرالحق اور دیگر، پیپلزپارٹی کے وفدمیں یوسف رضاگیلانی، شیریں رحمان اوردیگررہنما جبکہ اسفند یارولی،محمود اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ، میر حاصل بزنجو، ساجد میر شریک ہیں.آل

پارٹیزکانفرنس بجٹ منظوری رکوانے، حکومت مخالف تحریک پرمشاورت، جلسوں کے شیڈول اور اسلام آباد لاک ڈاؤن کی تاریخ کا تعین پر گفتگو کی جارہی ہے جبکہ حکومت گرانے ، چیئرمین سینیٹ کےخلاف تحریک عدم اعتماد بھی زیر غور ہیں. کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے اجتماعی استعفوں اوریوم سیاہ کی تجویز دیتے ہوئے کہا استعفے دےکرحکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے، اپوزیشن اسمبلیوں میں اپنے اراکین کے استعفے جمع کریں.قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا، حکومت کا ہاتھ روکنے کیلئے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں. انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام میں پیشرفت نہیں ہوئی، دھاندلی زدہ حکومت عوام کی نمائندگی کر ہی نہیں سکتی، ہمیں عوام کی نمائندگی کرنی چاہیے،بجٹ کو مسترد کرچکے ہیں.شہبازشریف نے کہا آئی ایم ایف کابنایاہوابجٹ عوام ،کسان اور کاروبار دشمن ہے، سب کو ملکرعوام کو اس معاشی بدحالی کے دلدل سے نجات دلانی ہے. کل جماعتی کانفرنس میں شہباز شریف کاخطاب مولانافضل الرحمان کے بعد شروع ہوا، مولانافضل الرحمان نے کہا دھاندلی سے قائم حکومت کاکوئی جوازنہیں، انتخابات کے بعدہم نے دھاندلی پرآوازاٹھائی تھی، اپوزیشن آج تک اس پرآگے نہیں بڑھ سکی‘انہوں نے کہا کہ مہنگا ئی کاطوفان عروج پرہے، اپوزیشن کوایک پلیٹ فارم سے آگے بڑھناہوگا، کچھ بھی ہوجائے تحریک کوآگے بڑھاناہے‘انہوں نے کہا کہ جے یوآئی نے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ حالات کے پیش نظر حکومت کاخاتمہ ناگزیرہے، لہذا اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحدہوں .جے یوآئی کی طرف سے اسلام

آبادکے لاک ڈاؤن کی تجویز بھی دی گئی جس پر پیپلز پارٹی،ن لیگ اور دیگرسیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا. شہبازشریف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مہنگائی کی حدکردی، عوامی مسائل بڑھنے لگے ہیں، حکومت پردباؤبنانے کے حق میں ہیں، اپوزیشن کی مشترکہ آوازآگے بڑھنی چاہیے، اے پی سی جو فیصلہ کرےگی قبول کریں گے. جماعت اسلامی اے ، ایم کیو ایم پاکستان اور بی این پی مینگل پی سی کا حصہ نہیں ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اے پی سی کے اختتام پر باہمی مشاورت سےاعلامیہ جاری کیاجائےگا.خیال رہے دو دن قبل اپوزیشن جماعتوں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مولانا فضل الرحمان کو اے پی سی کی تاریخ تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیا تھا، تاہم انھوں نے اے پی سی کی تاریخ تبدیل کرنے سے انکار کیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اراکین کو دعوت نامے ارسال کر دیے گئے ہیں اس لیے اب یہ ممکن نہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *