تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / بہتر ہے چیئرمین سینیٹ خود استعفیٰ دیدیں نہیں تو۔۔۔! بلال بھٹو کا دھماکہ خیز اعلان، دوٹوک پیغام دیدیا

بہتر ہے چیئرمین سینیٹ خود استعفیٰ دیدیں نہیں تو۔۔۔! بلال بھٹو کا دھماکہ خیز اعلان، دوٹوک پیغام دیدیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود استعفیٰ دیں ورنہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں ہٹاکر اپنا مشترکہ امیدوار لائیں گی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صادق سنجرانی کو سابق دور حکومت میں چیئرمین سینیٹ بھی اپوزیشن نے متفقہ طور پر منتخب کیا تھا۔ مگر اب حکومت تبدیل ہوگئی ہے اور اس کے ساتھ بھی اپوزیشن بھی مختلف ہے۔ اس لئے آج کی اپوزیشن کا حق ہے کہ اپنا چیئرمین منتخب کریں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ صادق سنجرانی کو ہم نے منتخب کیا، اب ہمارا ذہن تبدیل ہوگیا اور ہم انہیں ہٹانا چاہتے ہیں تو

ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ خود ہی استعفیٰ دے دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کو لیکر آگے بڑھنا پڑے گا۔انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی سنسرشپ اور صحافیوں کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چینل اور اخبارات کے بعد اب صحافی ٹوئیٹ بھی نہیں کرسکتے۔ اگر وہ سوشل میڈیا پر بات کرتے ہیں تو ان کے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیے جاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں گھٹن کا ماحول پیدا ہوگا۔ فرسٹریشن جب بڑھے گی تو یہ کیسی اور طریقے سے نکلے گی جس کے منفی نتائج مرتب ہوں گے۔سابق صدر آصف علی زرداری کے انٹرویو کے سنسر ہونے کا حوالہ دتے ہوئے کہا کہ یہاں عالمی شہرت یافتہ دہشت گرد احسان اللہ احسان، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو، گرفتار بھارتی پائلٹ اور سنگین غداری کیس میں مفرور ’بھگوڑا‘ جنرل مشرف کو ٹی وی پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ قبائلی علاقوں کے نوجوانوں پر پابندی عائد ہے۔ ایک سیاست دان کا چلتا ہوا انٹرویو اسکرین سے کھینچ کر واپس لیا جاتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کے ساتھ حکومتی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو بھگتا ہے اور آج کی حکومت کو بھی بھگت لیں گے۔ حکومت نت نئے ہتھکنڈوں سے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اپوزیشن بھی مزاحمت کے نئے راستے تلاش کرے گی۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہماری رائے مختلف ہوسکتی ہے لیکن پارلیمان کو استعمال کرکے ملک کے مفاد میں ایک رائے پرپہنچا جاسکتا ہے، ارکان کو کمیٹیوں میں اس بل کی تیاری کرنا ہوتی ہے جو ایوان میں پیش کئے جاتے ہیں، قواعد کے مطابق اسپیکر قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس پر پابندی نہیں لگاسکتے، حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ملک اور پارلیمان کو چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے، مریم نواز نے عدلیہ کے خلاف نہیں بلکہ صرف ایک جج کے متعلق بات کی ہے، اعلیٰ عدلیہ ایسے کیسز کو دیکھے اور معاملات کو حل کرے، دباؤ میں کئے جانے والے فیصلوں کا حل دیا جانا چاہیے، جن ججوں پر دباؤ ہے وہ اپنے آپ کو مقدمات سے علیحدہ کریں اور دباؤ میں فیصلے مت دیں، کیونکہ اس سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے اس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *