تازہ ترین
ہوم / کالم و مضامین / انوار الحق ۔۔۔ یہ منہ اور مسور کی دال ؟؟تحریر :بابر انور عباسی

انوار الحق ۔۔۔ یہ منہ اور مسور کی دال ؟؟تحریر :بابر انور عباسی

تحریک انصاف کی صدارت کی خبریں چلوا کر پیپلزپارٹی میں مقام بنانے (یعنی اپنی قیمت لگوانے ) میں ناکامی پر سابق سپیکر آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنے مخصوص خاندانی پس منظر کی آڑ میں اپنے آپ کو آزاد کشمیر میں مستقبل کا وزیراعظم بنائے جانے کا تاثر دینا شروع کردیا ہے تاکہ کچھ بیوقوف لوگ انکے ساتھ مل جائیں اور وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرح آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت کو بھی بلیک میل کر سکیں ، جناب خیالی وزیراعظم صاحب آج کہتے ہیں کہ اختیار ملا تو آزاد کشمیر میں بھی پاکستان کی طرح احتساب کا عمل (مبینہ ڈرامہ) شروع کریں گے، کیا جناب عالی جب آپ نے پیپلزپارٹی کے دور میں مبینہ طور پر خاندانی اثرروسوخ کا تاثر دیکر فریال تالپور سے گڈگورننس کی چیئرمین شپ لی تھی تو اس وقت گڈگورننس کے لیے کیا اقدامات

کیے، کیا پیپلزپارٹی کی آزاد کشمیر میں حکومت کی گڈ گورننس کے جو چرچے زبان زد عام ہیں یہ آپکے اقدمات کا کارنامہ ہے یا آپ ڈمی چیئرمین تھے اور چوہدری عبدالمجید نے آپکو بائی پاس کر کے کرپشن کی، یہ ساری تاریخ رقم کی تھی ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ریاست کے عامر شہریوں کے زہنوں میں موجود ہے اب کچھ ان سوالوں کا بھی زکر کرتے ہیں جو موصوف کے حقیقی بھائی ڈاکٹر انعام الحق جن کا تعلق پہلے ہی تحریک انصاف سے ہے اور آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے بانی کارکنان میں شمار ہوتے ہیں ۔۔ڈاکٹر انعام الحق نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں اپنے بھائی پر سنگین نوعیت کے الزمات عائد کیے ہیں انہوں نے سوال کیا کہ سابق اسپیکرانوار الحق کرپشن کے خلاف ہیں تو رینٹل پاور کرپشن منصوبہ جس میں موصوف کا قریبی ساتھی ملوث ہے کے خلاف بھی آواز بلند کریں؟ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ٹکٹ لینے کے لیے چاپلوسی کرنے والے سابق اسپیکر اسمبلی اب کس منہ سے ان کی مخالفت کررہے ہیں؟ انعام الحق کا کہنا تھا کہ انوار الحق کو تمام لوگوں نے والد محترم کی وجہ سے ووٹ دئیے لیکن پھر بھی چند سو ووٹوں سے الیکشن جیت سکا،جیتنے کے بعد وہ 5 سال لوگوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا اور اگلے الیکشن 2011 میں عوام نے اسے مستر د کردیا، پیپلز مسلم لیگ کا ٹکٹ لے کر ممبر اسمبلی بننے والا انوار الحق چند ماہ بعد ہی اسے چھوڑ کر سردار یعقوب خان کے ساتھ مل گیا ،وزیر ہاوسنگ بنا لاکھوں روپے کمیشن حاصل کی چیئرمین معائنہ کمیشن بن کر ایم ڈی اے میرپور گئے اور وہاں بھی ملی بھگت کرنے کی کوشش کی، 2 ماہ قبل پی ٹی آئی کی تنظیموں کی توڑ کر نئی تنظیم ساز ی کا فیصلہ ہوا اب جبکہ تنظیم سازی کا عمل شروع ہے تو میرا بھائی انوار الحق بھی پی ٹی آئی کی صدارت کا امیدوار بن

رہا ہے وہ اس جماعت کا ممبر تک نہیں بنا پارٹی میں باضابطہ شامل نہیں ہوا تو صدر کیسے بن سکتا ہے انوار الحق صرف پی ٹی آئی میں نقب لگانا اور میرا راستہ روکنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انوار الحق نے اپنا کیرئیر 1990 میں بطور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر شروع کیا 9 ما ہ بعد اسے ملازمت چھوڑنا پڑی والد محترم چوہدری صحبت علی سنیئر وزیر تھے ان کو آٹا سمگلنگ کی شکایات ملیں والد محترم نے انہیں کہا کہ نوکر ی چھوڑ دو، 1996ء میں بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے بطو ر وزیراعظم انوار الحق کو ایڈمنسٹریٹر ضلع کونسل بھمبر تعینات کیا، برنالہ سماہنی کے وزراء اس بات کے مخالف تھے پھر بھی کمال شفقت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اسے ایڈمنسٹریٹر لگا دیا گیامقتدر حلقوں نے اسے وارننگ دی کہ جعلی ترقیاتی سکیموں سے باز آجاؤوہ فائل آج بھی موجود ہے،انہوں نے کہا کہ 2001 میں والد محترم نے فیصلہ کیا کہ

انوار الحق سماہنی حلقہ سے الیکشن لڑیں گے اس نے بزرگوں کے فیصلے کی نفی کی اور بھا گ گیا ، سردار عتیق احمد خان کے ساتھ مل کر سپیکر بنا ا اور اسپیکر اسمبلی بن کر اقر باء پروری کرتے ہوئے تھرڈ ڈویثرن شخص کو سیکرٹری اسمبلی لگا دیا اس کے بعد راجپوت فیملی سے اپنے برادری نسبتی کو محکمہ خوار ک میں فوڈ انسپکٹر لگوایا، انہوں نے کہا کہ انوار الحق پھر زرداری اور اسکی ہمشیرہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے مجید دور میں چیئرمین گڈگورننس بن گئے کہ حکومت کی غلطیوں کو درست کیا جائے گا کئی ماہ تک چیئر مین بنے رہے چیئرمین رہنے کے باوجود کوئی غلطی درست نہ کرسکے نہ ہی کوئی نشاندہی کی انہوں نے سوال اٹھایا کہ خود کرپٹ شخص کرپشن کیسے دور کرسکتا ہے انوار الحق نے 2016 کے الیکشن میں 11 کروڑ روپے کی سکیمیں لے کر حلقہ میں پیسے تقسیم کئے پھر بھی الیکشن ہار

گئے کیوں کے وہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے ،اس کردار کے ساتھ یہ حلقہ سے ممبر اسمبلی نہیں بن سکتا میری زندگی میں ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دے ڈاکٹر انعام کو نہیں اس نے بیرسٹر سلطان محمود کو چھیڑا ہے ا سمیں ایسی اہلیت نہیں ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کو چلاسکے اسکے ڈیرہ پر منشیات سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں اسکی پشت پناہی منشیات کے فروشوں کو حاصل ہے قاتل بھی ہے بھمبر رجانی میں رفیق نامی شخص قتل ہوا قتل کے اس مقدمہ میں نامزد ہے اس حلقہ میں سیاست چوہدری صحبت علی کی تھی وہ مظلوم کے ساتھی تھے جبکہ موصوف ظالم کا ساتھی ہے اسکو یہاں تک پہنچانے میں یوسف درائیاں کا ہاتھ ہے جب تک موجود ہوں چوہدری صحبت علی کا سیاسی پیروکار بن کر ظلم کا راستہ روکتا رہوں گا ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ انوار الحق کا سیاسی پارٹنر علی ذوالقرنین نیب زدہ ہے اور

ڈیڑھ ارب روپے کی کرپشن اس کے کھاتے میں ڈالی جارہی ہے موصوف اگر کرپشن کے خلاف ہیں تو سب سے پہلے اس کیس کے خلا ف آواز اٹھائیں تو پتہ چلے گا کہ موصوف واقعی کرپشن کے خلاف ہیں ، اوپر اٹھائے گئے عام شہریوں کے زہنوں میں موجود سوالوں کے جواب شاید ضروری نہ ہوں لیکن انکے بھائی نے جوسوالات اٹھائے اور الزامات عائد کیے ہیں انکے جواب دینا نہ صرف انوار الحق کے لیے ضروری ہے بلکہ تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کو بھی ان سوالوں کے جواب اور الزمات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس شخص کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے جا رہے کیوں کہ موصوف پر صرف کرپشن کے الزمات نہیں بلکہ قتل کا الزام بھی ہے اور یہ الزام کسی عام شہری نے عائد نہیں کیے بلکہ انکے حقیقی بھائی نے عائد کیے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *