ہوم / اہم خبریں / میرا ہر فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں ہے، طاقتور لوگوں کااحتساب ہوگا تو ملک تبدیل ہوجائے گا

میرا ہر فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں ہے، طاقتور لوگوں کااحتساب ہوگا تو ملک تبدیل ہوجائے گا

کراچی(نیوز ڈیسک)عمران خان نے کہا کہ میرا ہر فیصلہ ملک وقوم کے مفاد میں ہے، طاقتور لوگوں کااحتساب ہوگا تو ملک تبدیل ہوجائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہاجارہا ہے ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھو، ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ملک سے غداری کے مترادف ہوگا،طاقتور لوگوں کااحتساب ہوگا تو ملک تبدیل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کہتےہیں کیاسب جیل میں جاکراکٹھےہوگے، فضل الرحمان ملکی سیاست کے12ویں کھلاڑی ہیں، چوروں کا احتساب نہیں کریں تو ملک مقروض اور مشکل حالات ہی رہیں گے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی

سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے، یہ مجھ سے این آر او کے تین لفظ سننا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا. وزیر اعظم نے کہا کہ ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا.وزیر اعطم نے کہا کہ جب تک ملک اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا، ہم مزید قرضوں میں ڈوبتے چلے جائیں گے، دنیا میں صنعتیں بڑھ رہی ہیں یہاں پیچھے جارہی ہیں، صنعت کاروں سے ملاقات کا مقصد تھا کہ انڈسٹریلائزیشن کو آگے بڑھایا جائے، سرمایہ کاری کے لئے مختلف ممالک سے ایم او یو کئے ہیں.انھوں نے کہا کہ ماہانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر پر آگیا ہے، امریکا جا رہا ہوں، پاکستانی سفارتخانے میں ٹھہروں گا، حکومتی اخراجات کم کررہےہیں،خرچے کم کر رہے ہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں10سے12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، چوری،کرپشن، منی لانڈرنگ پرسزا نہیں دیں گے، تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں،چین نے پانچ سال میں ہزاروں لوگوں کو کرپشن پر جیلوں میں ڈالا، اگر کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں کریں گے، تو یہ ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے، پہلے دن سے یہ لوگ بلیک میل کررہےہیں، افراتفری مچارکھی ہے، یہ مجھ سے این آر او کے الفاظ سننا چاہتے ہیں.ماضی میں جو این آر او دیاگیا، اس سے ملک تباہ ہوا، جوکہتے ہیں کہ حکومت گرادو وہ لوگ این آر او چاہتے ہیں، ان کی کرپشن کی وجہ سے آج مشکل حالات ہیں،عوام مشکل میں ہے، شبر زیدی اور میں نے ذمہ داری اٹھائی ہے،ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے، ساڑھے 5 ہزار ارب روپے ٹیکس کا ہدف مل کر پورا کریں گے، ٹیکس نہ ملےاور نوٹ چھاپنے پڑے تو ملک ہائپر انفلیشن کا

شکار ہوجاتا ہے.ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کی کسی نے بات نہیں کی ، اور نہ ایسا ہوگا، آصف زرداری نے بہ طور صدر دبئی کے 40 دورے کیے، وہ کیا کرنے جاتے تھے؟ نوازشریف نے لندن کے 20 نجی دورے کیے کیوں کہ ان کے محلات باہر ہیں.پہلے دن سے یہ سب اکٹھے ہوگئے کہ حکومت گرادو، حالاں کہ زرداری اور نوازشریف نے خودایک دوسرے پر کیسز بنائے.وزیر اعظم نے کہا کہ 60 سال میں ملک پر 6ہ زار ارب روپے قرضہ تھا، ان لوگوں نے 10سال میں قرضہ 30ہزار ارب روپے تک پہنچادیا، آج انھیں خوف ہے ، یہ جمہوریت بچانے کے لئے اکٹھے ہونے

کی باتیں کرتے ہیں، اس قوم کو لوٹا گیا، یہ حکومت کو بلیک میل کرنےکے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں، مولانافضل الرحمان ملکی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں بھی زرداری اور نوازشریف جیسے بیٹھےہیں، حدیبیہ پیپر مل کیس میں پیسہ ہنڈی کےذریعے باہر بھجوایاگیا پھر وہی ٹی ٹی سے واپس آیا۔انھوں نے کہا کہ دوست ممالک نے ہمیں ریکارڈ پیکج دیے ہیں، دوست ممالک پیکج نہ دیتے تو ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہوتا، مجھے کہاجارہاہے ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھو، ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ملک کےساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *