تازہ ترین
ہوم / پاکستان / گرفتاری کا خوف، مریم نواز کیا منصوبہ بنانے لگیں

گرفتاری کا خوف، مریم نواز کیا منصوبہ بنانے لگیں

لاہور(نیوز ڈیسک)نیب کی جانب سے بھیجے جانے والے طلبی کا نوٹس جاتی امرا میں موصول ہوگیا جس کی مریم نواز نے جارحانہ انداز میں تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق نیب نےمریم نوازکی طلبی کاسمن جاتی امرامیں وصول کرادیا، ادارہ برائے احتساب ٹیم نے پولیس حکام کے ساتھ جاکر جاتی امرا میں نوٹس دیا۔یاد رہے کہ احتساب عدالت نےمریم نوازکےسمن تعمیل کیلئےنیب بھجوائےتھے، سمن میں ہدایت کی گئی ہے کہ مریم نواز مقدمے میں حاضری کو یقینی بنائی اور ذاتی حیثیت میں لاہور کی احتساب عدالت میں پیش ہوں۔قبل ازیں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر احتساب عدالت نے مریم نواز کی طلبی کے سمن نیب کا ارسال کیے تھے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ آپ کونوٹس کےذریعےعدالتی

احکامات سےمتعلق آگاہ کیاجاتاہے۔دوسری جانب مریم نواز نے طلبی کے نوٹس ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب احتساب عدالت میں ملاقات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجھے ہر قیمت پر گرفتار یا نظر بند کرنا چاہتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ میرے خلاف کچھ موجود نہیں ہے، اس لیے جس کیس میں مجھے سزا ہوچکی اور ہائی کورٹ کے حکم پر اُسے معطل کیا گیا اُس مقدمے کو دوبارہ کھول لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی پیشی کو یقینی بناؤں گی کیونکہ گرفتار ہو کر ان کا مقصد پورا نہیں کرنے دوں گی ، مجھے عدالت میں ناقابلِ تردید حقائق عدالت کے سامنے رکھنے ہیں۔یاد رہے گذشتہ روز نیب نے احتساب عدالت میں مریم نواز کو جعلی دستاویزات فراہم کرنے پر سزادینے کی درخواست دی، نیب نے کہا تھا کہ مریم نواز نے کیلبری فونٹ والی جعلی ٹرسٹ ڈیڈپیش کی ، ان کی ایون فیلڈ میں ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ثابت ہوچکی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی مریم نوازکوآرڈیننس کے شیڈول جرم 3 اے اور عدالت سیکشن 30 کے تحت سزا دی جائے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 جولائی کوطلب کرلیا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا جعلی دستاویزات دینےپر ملزم یاگواہ کودس سال قید بامشقت ہوسکتی ہے۔بعد ازاں مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے نیب کی جانب سے پیشی کے سمن پر دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اپنے رسک پر بلانا، میری باتیں سن سکو گے نہ سہہ سکو گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *