ہوم / اہم خبریں / صادق آباد ٹرین حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ

صادق آباد ٹرین حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ

رحیم یار خان(نیوز ڈیسک)صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں جس کی نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 82 زخمی ہوگئے۔اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) صادق آباد کے مطابق ولہار اسٹیشن پر لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس کھڑی مال گاڑی سے ٹکرائی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں 3 سے 4 بوگیاں الٹ گئیں اور 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثرہوئیں جبکہ اکبر ایکسپریس کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) رحیم یار خان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ٹرینوں میں تصادم سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو

نکالنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جارہی ہے اور مسافروں کو کھانا اور پانی بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مسافروں کو بسوں کے ذریعے منزل مقصود پر پہنچایا جائے گا’۔ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ضلع بھر سے 50 سے زائد سرکاری و نجی ایمبولینسز ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ شیخ زید اسپتال میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ جب کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور شیخ زید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ڈی پی او عمر سلامت کی جانب سے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے عوام الناس سے خون عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق اعلیٰ ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *