ہوم / پاکستان / شہباز شریف تو 2005میں پاکستان میں تھے ہی نہیں، برطانوی حکومت اور امداد دینے والے ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کو مسترد کردیا

شہباز شریف تو 2005میں پاکستان میں تھے ہی نہیں، برطانوی حکومت اور امداد دینے والے ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کو مسترد کردیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ امداد دینے والے ادارے اور برطانوی حکومت نے شہباز شریف پر زلزلہ متاثرین کی امداد کی رقم کھانے کی ڈیلی میل کی رپورٹ کو مسترد کر دیاہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت نے اس خبر کو جھوٹا قرار دیا ہے جبکہ مائکروسافٹ پہلے ہی ڈیلی میل کو جھوٹا اخبار قرار دے کر اپنے صارفین کو ڈیلی میل نہ پڑھنے کی تلقین کرچکا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شہباز شریف پر زلزلہ متاثرین کی امداد کی رقم کھانے کی داستان بنی گالہ میں لکھی گئی۔ مریم اورنگ زیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیلی میل میں شائع ہونے والی

رپورٹ لکھنے والا ڈیوڈ روز بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان سے ملا جہاں اسے اس کہانی کا من گھڑت مواد دیا گیا۔مریم اورنگزیب نے ڈیوڈ روز کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی مبینہ تصاویر بھی میڈیا کے سامنے پیش کر دیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ ساری سازش پاکستان تحریکِ انصاف اور سلیکٹڈ وزیراعظم عمران خان نے بنائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پچاس درجن سے زائد بیوقوف ترجمان اس کہانی کو سپورٹ کر رہے ہیں جو غلط اور جھوٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زلزلہ 2005میں آیا اور اخبار کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ 2005سے 2012کے دوران یہ امداد دی گئی اور 2005میں شہباز شریف ملک بدر تھے اور ایک آمر کی ملک پر حکومت تھی ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف 2008میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے لیکن تب بھی یہ ادارہ وفاق کے تحت تھا اور وفاق میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہزاد اکبر نے یہ جھوٹی خبر ایک جھوٹے اخبار میں پلانٹ کروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر ایک روپے کی بھی کرپشن ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں اور اب ان کی نوکری جاننے والی ہے تو وہ اب جھوٹے الزامات لگانے لگے ہیں اور جھوٹی خبریں پلانٹ کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب خدارا شہباز شریف کے بغض میں ملک کو بدنام نہ کریں، ہمیں ان ممالک اور اداروں کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے پاکستان کی مدد کی لیکن آپ ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *