ہوم / پاکستان / پی ٹی وی میں 2 ہزار335 غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف، نیب نے شکنجہ کس لیا، سابق دورحکومت کی اہم شخصیت طلب

پی ٹی وی میں 2 ہزار335 غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف، نیب نے شکنجہ کس لیا، سابق دورحکومت کی اہم شخصیت طلب

لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی ویژن میں2 ہزار335 غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، نیب کی جانب سے غیرقانونی بھرتیوں اورکرپشن انکوائری کیلئے سابق ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ کوطلب کیے جانے کا امکان ہے، یوسف بیگ مرزا 9 سال تک پی ٹی وی کے ایم ڈی رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی وی میں مبینہ طورپرغیرقانونی بھرتیوں اورکرپشن معاملے کی انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے سابق ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ کوطلب کیے جانے کا امکان ہے۔ انکوائری میں سابق ایم
ڈی پی ٹی وی کے بارے میں مبینہ طور پر ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ایم

ڈی یوسف بیگ مرزا 9 سال تک پی ٹی وی کے ایم ڈی رہے۔ ہر3 سال بعد قواعد کے برعکس یوسف بیگ کو پھرایم ڈی لگایا جاتا رہا۔9 سالوں میں قواعد کے برعکس 2 ہزار335 افراد کو پی ٹی وی میں بغیر انٹرویو بھرتی کیا گیا۔یوسف بیگ نے 50 ملازمین کومبینہ طورپر بغیر اشتہار کے ریگولر پے اسکیل میں رکھا۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطا الحق قاسمی، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار،سابق وفاقی وزیر پرویز رشید اور بیورو کریٹ فواد حسن فواد پر 19 کروڑ روپے سے زائد جرمانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لئے پی ٹی وی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی ۔پی ٹی وی کے وکیل نذیر باجوہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے 8 نومبر 2018 کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے، عدالت نے چار افراد پر19کروڑ78لاکھ67 ہزار491 روپے جرمانہ عائد کیا تھا ۔جرمانے کا نصف عطاالحق قاسمی،20،20 فیصد پرویز رشید اور اسحاق ڈار جبکہ 10فیصد فواد حسن فواد پر عائد کیا گیا تھا ۔پی ٹی وی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عطا الحق قاسمی کو 9 کروڑ 89 لاکھ 33 ہزار 748 روپے جرمانہ ادا کرنا ہے ۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پاکستان ٹیلی ویژن کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیاتھا۔عطا الحق قاسمی کی تقرری سے ملکی خزانے کو ہونے والے نقصان پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *