تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / چوری کے پیسوں سے بنی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں،حکومت کا بڑا فیصلہ، تھرتھلی مچ گئی

چوری کے پیسوں سے بنی جائیدادیں ضبط کرلی جائیں،حکومت کا بڑا فیصلہ، تھرتھلی مچ گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چوری کے پیسے سے بنی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی، بہت جلد قانون حرکت میں آئے گا، شہبازشریف صاحب! میں حاضر ہوں مجھ پر برطانیہ میں کیس کریں، عدالت میں ایک ایک چیز کھول کربیان کروں گا۔ا نہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چوری کے پیسے سے بنی جائیداد ضبط کی جائے گی۔بہت جلد قانون حرکت میں آئے گا، جو مال چوری سے بنایا، وہ قوانین کے مطابق ضبط ہوگا اور کیس مکمل ہونے پراس جائیداد کو فروخت کرکے پیسا قومی خزانے میں جمع ہوگا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شہبازشریف صاحب میں حاضر ہوں

مجھ پر برطانیہ میں کیس کریں۔ میرے خلاف کیس دائر کرنے کا دعویٰ واپس نہ لینا، عدالت میں ایک ایک چیز کھول کربیان کروں گا۔انہوں نے کہا کہ برطانوی صحافی نے 2018ء میں وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے جواب میں صرف پرانی تصویر لائی گئی۔یہ خالہ جی کا گھر نہیں، مجھے اسٹوری کروانی ہوتی تو دستاویزات بھی شائع کرواتا۔شہزاداکبر نے کہا کہ اس رقم اور بینک سے قرض لے کر37 کمپنیاں بنائی گئیں۔سلیمان شہبازکے 95 اثاثے بھی اسی ٹی ٹیزسے بنیں ہیں۔من پسند کمپنیوں کو نوازا گیا ، اس میں کک بیکس اور منی لانڈرنگ بھی شامل ہے۔منظور پاپڑ والے نے برطانیہ میں ان کو پیسے بھیجے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہبازحراست میں ہیں اور سلیمان شہبازمفرور ہیں۔نوید اکرم نے 131ملین کی علی عمران کو ادائیگی کی،علی عمران کے زیرتعمیرپلازہ سے کرایہ وصول کیا جاتا رہا۔نوید اکرم کی ایک ارب جائیداد ضبط کرلی گئی ہے۔علی اینڈ کمپنی نے کوئی کام کیا نہ کوئی معاہدہ کیا، پاکستان میں ان کی کوئی کمائی نہیں سارا پیسا بیرون ملک سے آیا ہے۔علی عمران کو زلزلہ متاثرین کے فنڈز سے پیسے دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ لندن میں دعویٰ دائر کریں، یہ لوگ پاکستانی عدالتوں میں تو پیش نہیں ہوتے ، اب وہاں کی عدالت میں جائیں گے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف فیملی کے اثاثوں سے متعلق مشکوک ٹرانزیکشن جب سامنے آئیں، تو اسٹیٹ بینک کے ساتھ کام کرنے والے فنانشل مانیٹری یونٹ سے کیس کا آغاز ہوا جن میں باہر سے آئی ہوئی رقم کا علم ہوا تھا۔معاون خصوصی نے کہا کہ اس رقم کی جب چھان بین کی گئی تو 200 سے زائد غیر ملکی ذرائع سے شریف خاندان کے مختلف لوگوں کے اکاؤنٹس میں آئی تھی یہ رقم 2 کروڑ 60

لاکھ ڈالر سے زائد رقم بنتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے حیران کن بات ہے کہ شہباز فیملی کے جو ظاہر کیے گئے اثاثے ہیں ان کا فرانزک کیا جائے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حمزہ شہباز جو نیب کی تحویل میں ہیں اور جسمانی ریمانڈ پر ہیں ان کے 95 فیصد اثاثے انہی ترسیلات زر سے بنے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ حمزہ شہباز کے اثاثوں سے متعلق یہ بات ثابت ہوچکی ہے، 3 ماہ لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری ہوتی رہی اور ایک ایک دستاویزات دکھانے کے بعد ان کی ضمانت منسوخ ہوئی۔معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ سلیمان شہباز نے جتنے بھی اثاثے ظاہر کیے ان میں سے 99 فیصد انہی ترسیلات

زر سے بنے ہیں، یہاں کی کوئی کمائی نہیں ہے سارا پیسہ باہر سے آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی پہلی اہلیہ کی 80 فیصد آمدن اور اثاثے انہی ترسیلات زر سے بنائے گئے، ان تمام رقوم سے اپنی کمپنیاں بنائی گئیں۔شہزاد اکبر نے کہاکہ 200 سے زائد ترسیلات زر بھیجنے والے ان تمام افراد میں سے کسی کی حیثیت نہیں کہ لاہور سے کراچی جاسکے، ان میں سے ایک منظور پاپڑ والے نے 20 لاکھ ڈالر سے زائد رقم شہباز شریف کے صاحبزادوں کے اکاؤنٹ میں بھیجی جو جہلم کے گاؤں میں پاپڑ بیچتا،اس نے برطانیہ کیا کراچی بھی نہیں دیکھا لیکن وہ 20 لاکھ سے زائد پیسے بھیج رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ اس کیس

میں صورتحال یہ ہے کہ حمزہ شہباز زیر حراست ہیں اور سلیمان شہباز مفرور ہیں خاندان کےدیگر بھی مفرور ہیں انہیں تحریری سوالنامے بھی بھیجتے ہیں تو بھی کوئی جواب نہیں آتا۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کو 6 ستمبر 2002 کو 2 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ ان کی نجی کمپنی کے نام دیا گیا تھا یہ تمام رقم زلزلہ متاثرین کی تعمیرنو کے اکاؤنٹ سےجاری ہوئی ہوئی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ اگلے دستاویزات میں مارچ 2013 میں علی عمران کو ایک کروڑ 30 لاکھ کی رقم منتقل کی گئی، 2011 میں 2کروڑ 70 لاکھ کی رقم ان کی کمپنی کو منتقل کی گئی۔انہوں نے کہا کہ نوید اکرام جو زلزلہ متاثرین کی

تعمیرنو سے متعلق اتھارٹی کے ڈائریکٹر تھے انہوں نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ علی عمران کو 13 کروڑ ایک لاکھ کی ادائیگی کی اور انہوں نے خود زلزلہ متاثرین کے فنڈ کی مد میں 49 کروڑ اور 90 لاکھ خرد برد کی تھی۔معاون خصوصی نے کہا کہ علی عمران کے ایک ایسے کمرشل پلازے کو کرائے کی مد میں رقم دی جاتی رہی جو ابھی تعمیر نہیں ہوا تھا وہ پلازہ لاہور میں ضبط ہوا ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ جب انہوں نے ماننا ہی نہیں ہے تو اس کا ہم کوئی حل نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ جن مقدمات میں سزا ہوئی ہے ان میں بھی نہیں مانتے کہ ثبوت موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *