ہوم / پاکستان / پلاسٹک کے شاپنگ بیگ پر 50لاکھ روپے تک جرمانہ، حکومت نے بڑی پابندی عائد کردی

پلاسٹک کے شاپنگ بیگ پر 50لاکھ روپے تک جرمانہ، حکومت نے بڑی پابندی عائد کردی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت نےاسلام آباد میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی لگا دی۔ وزیراعظم کے مشیر ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پرپابندی کا اطلاق 14اگست سے ہوگا، بعد میں شاپنگ بیگ استعمال پر50 ہزار سے50 لاکھ تک جرمانہ ہوسکے گا۔ وزیراعظم کے مشیر ماحولیات ملک امین اسلم نے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں پلاسٹک بیگزکے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی کا اطلاق 14اگست سے ہوگا۔ 14 اگست کے بعد پلاسٹک کے شاپنگ بیگزکے استعمال پر جرمانہ ہوگا۔ امین اسلم نے کہا

کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز پر پابندی کا آغاز اسلام آباد سے کیا جارہا ہے۔شاپنگ بیگز استعمال کرنے والوں پر50 ہزار سے50 لاکھ تک جرمانہ ہوسکے گا۔ اگریہی حالات رہے تو2050ء تک سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ شاپنگ بیگ ہوں گے۔امین اسلم نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 55 ارب پلاسٹک کے شاپنگ بیگ استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14اگست سے اسلام آباد میں ایک لاکھ شاپنگ بیگ تقسیم کریں گے، شاپنگ بیگ کے استعمال پر پابندی سے پاکستان کلین اور گرین بن سکے گا۔ اس موقع پر معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ کوڈیلی میل میں شائع خبرسے جڑے اعداد شمار، دیگر تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ کابینہ نے ای کامرس پالیسی فریم ورک کی منظوری دی ہے۔ ہر وزارت کے اندرافسران کی کمی کو باضابطہ طورپرپورا کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک فیصلے پر کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون کریں گے۔ ریکوڈک کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔کابینہ نے توصیف ایچ فاروق کوچیئرمین نیپرا اور عامر علی احمد کو تین ماہ کے لیے چیئرمین سی ڈی اے لگانے کی منظوری دے دی، وزیراعظم نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں کا اطلاق اگست میں ہو گا، پہلے ہی جواز کیسے بنا لیا گیا،وزیراعظم نے پریس سیکرٹری کو صوبوں سے تفصیلات لینے کی ہدایت کردی ہے۔کابینہ نے ہیلتھ کئیر بل اور ای کامرس پالیسی کے علاوہ یورو اور اسکوک بانڈز کے اجرا کے لیے مالیاتی مشیر کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔ریکوڈک کیس کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے وزیر قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *