تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / بھارت نےپیسے لیکر لداخ اور سیاچن میں امریکی ایجنسی سی آئی اے کو بیس بنانے کی اجازت دی، ایسا کس سازش کے تحت کیا گیا، تہلکہ خیز انکشاف

بھارت نےپیسے لیکر لداخ اور سیاچن میں امریکی ایجنسی سی آئی اے کو بیس بنانے کی اجازت دی، ایسا کس سازش کے تحت کیا گیا، تہلکہ خیز انکشاف

سری نگر(نیوز ڈیسک)سینیٹر مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے 1960 میں کشمیر کے علاقے لداخ میں امریکی ایجنسی سی آئی اے کو بیس بنانے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ سابق بھارتی وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور مورارجی نے سی آئی اے سے پیسے لے کر لداخ میں بیس کیمپ بنانے کی اجازت دی۔ انہوں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو کے دور میں بھی ایک پیپر گردش کرتا رہا جس میں کہا گیا تھا کہ سی آئی اے کشمیر میں موجود ہے۔مشاہد حسین سید نے بتایا کہ کانگرس کی رہنما اندرا گاندھی نے الیکشن کمپین چلانے کے لیے سی آئی اے سے پیسے لیے تھے اور انہوں نے اس پیسے سے اپنی

انتخابی مہم چلائی اور وزیراعظم بنیں۔ مشاہد حسین سید نے مزید بتایا کہ سابق بھارتی وزیراعظم اور کانگرس کے رہنما مورارجی نے بھی امریکی ایجسنی سے الیکشن کے لیے پیسے لیے اور بدلے میں امریکہ کو لداخ میں انفارمیشن بیس بنانے کی اجازت دی جس کے ذریعے امریکہ چین کی جاسوسی کرنے کے قابل ہوا۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے امریکہ کو لداخ اور سیاچن میں بیس فراہم کیے جہاں امریکی ایجنسی چین کے خلاف منصوبے بناتی تھی۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ بھارت نے امریکہ کو کشمیر میں اپنا کیمپ بنانے دیا تھا اور ہو سکتا ہے ابھی بھی وہاں امریکی کیمپ موجود ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ 1960میں ہی کشمیر میں آگیا تھا اور 1968کے بھارتی الیکشن میں بھی امریکہ نے کانگرس کو پیسے دیے۔واضح رہے کہ بھارت نے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے، بھارت کے صدر سے کشمیر سے متعلق 4 نکاتی ترامیم پر دستخط کیے جس کے بعد اس حوالے سے صدارتی حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر آج سے بھارتی یونین کا علاقہ تصور کیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گا۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی علیحدہ سے اسمبلی ہو گی۔ آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر سے باہر کے لوگ وہاں اپنے نام پر زمین نہیں خرید سکتے لیکن اب اس آرٹیکل کو ختم کر دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *