تازہ ترین
ہوم / علاقائی / وکیل سے تھپڑ کھانیوالی خاتون پولیس اہلکار نےملازمت سے چھوڑنے کا اعلان کردیا

وکیل سے تھپڑ کھانیوالی خاتون پولیس اہلکار نےملازمت سے چھوڑنے کا اعلان کردیا

شیخوپورہ (نیوز ڈیسک) وکیل کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون پولیس اہلکار فائزہ ہمت ہار گئی۔ فائزہ نے ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ خاتون کانسٹیبل نے کہا ہے کہ انہیں انصاف ملتا نظر نہیں آرہا، انہوں نے کہا مجھے ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے، میں محکمہ پولیس سے استعفی دے رہی ہوں۔ لیڈی کانسٹیبل فائزہ نے کہا کہ طاقت کے نشے میں چور ایک شخص نے انہیں تھپڑ ماران اور اب ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے اور انہیں انصاف ملتا بھی نظر نہیں آتا اس لیے محکمہ پولیس سے استعفی دے رہی ہوں۔لیڈی کانسٹیبل فائزہ کا کہنا ہے کہ اتنا پریشرائز کیا جا رہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں خود کشی کرلوں یا کہاں جاؤں۔ میں اس مافیا کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کانسٹیبل فائزہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون پولیس اہلکار نے سوال کیا ہے کہ

کیا یہی ہے عورت کی عزت کہ کوئی بھی اسے سرعام تھپڑ مار کر چلا جائے؟ خاتون اہلکار نے چیف جسٹس پاکستان اور صدر مملکت سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔خاتون کانسٹیبل نے کہا کہ جب انہوں نے درخواست جمع کروائی تو سب انسپکٹر نے ایف آر درج کرتے ہوئے ایک جگہ احمد مختار کی احمد افتخار نام لکھ دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شک کی بنیاد پر ایف آئی آر ختم کردی گئی اور ملزم احمد مختار کو بری کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جج نے تشدد کرنے والے وکیل احمد مختار کا نام احمد افتخار لکھنے کی غلطی کا فائدہ ملزم کودیا اور ضمانت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھا تک نہیں گیا کہ انہیں تھپڑ کس نے مارا؟ خاتون کانسٹیبل نے سوال اٹھایا کہ کیا اس ملک میں عورت کی یہی عزت ہے کہ اسے کوئی بھی شخص سر عام آکر تھپڑ مارے اور پھر بری بھی ہوجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *