تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / نواز شریف کے قریبی ساتھی نے وزیراعظم کو اہم مشورہ دیدیا

نواز شریف کے قریبی ساتھی نے وزیراعظم کو اہم مشورہ دیدیا

لاہور( نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ 2020ء نئے انتخابات کا سال ہے، اگر اگلے سال انتخابات نہیں کروائے جاتے اور جبراً روکنے کی کوشش کی جاتی ہے توپھر میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے، عمران خان کوچاہیے پاکستان کو بھونچال سے بچانے کیلئے مولانا فضل الرحمان کے مطالبات مان لیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا سے گلہ تھا کہ دنیا کی ریاستیں کشمیر کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلیتی ہیں اور مصلحت پسندی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ دنیا کے سماج نے کشمیر کے المیے کو دیکھا بھی ہے اور سمجھا بھی

ہے اور احتجاج بھی کیا ہے ۔ پاکستان کے پاس بڑا اچھا موقع ہے کہ مسئلہ کشمیربین الاقوامی سطح پر اجاگر ہورہا ہے اور دنیا کے سماج میں کشمیر کے بارے جو شعور اجاگر ہوا ہے اس میں مزید اضافہ کرنا چاہیے ۔جو بین الاقوامی تنظیمیں سماج کی نمائندگی کرتی ہیں ان سے روابط کو تیز کرنا چاہیے۔ یہی سبب بنے گا کہ جو ریاستوں کو کشمیر میں ظلم وناانصافی کیخلاف آواز بلند کرنے کیلئے مجبور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحث چلتی رہتی ہے کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم پیسے دینے کیلئے تیار ہیں، ہم 12ارب ڈالر دے کرجارہے ہیں،جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کو شاید یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ 12بلین ڈالر ہوتے کتنے ہیں؟ وہ پاکستان کی کل معیشت سے بھی زیادہ رقم کے حوالے دینا شروع کردیتے ہیں۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نوازشریف قانون کی گرفت ہیں؟لیکن جو وزراء کی جانب سے خبریں دی جاتی ہیں ان سے لگتا ہے کہ نوازشریف قانون کی گرفت میں نہیں بلکہ اغواء برائے تاوان والوں کے پاس ہیں۔ اغواء برائے تاوان والے ان کو اغواء کرکے لے جاچکے ہیں اور ان کی رہائی کیلئے پیسوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ن لیگ کا ہمیشہ مئوقف رہا ہے کہ ہم ڈیل کے ذریعے رہائی نہیں چاہتے بلکہ عدالت سے انصاف چاہتے ہیں۔لیکن عدالتوں پر ہمیں تحفظات اور شکایات ہیں، کہ ایک ہی طرح کے مقدمے میں دومعیارات بنا دیے گئے، بنی گالہ کے مقدمے میں سہولتیں دی گئیں ، اس طرح نوازشریف کی منی ٹرائل کو نہیں دیکھا گیا، بنی گالہ حال کا واقعہ ہے جبکہ نوازشریف سے ان کی پیدائش سے پہلے کے معاملات کا بھی حساب لیا گیا ۔ہم عدالتوں سے انصاف چاہیں گے خواہ ہمیں انصاف میں دیر لگ جائے۔سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ ملکر اپنا کردار ضرور ادا

کریں گے، جو سیاسی جماعت باہر نہیں نکلے گی وہ عوام سے دور ہوجائیں گی۔ کیونکہ موجودہ حکومت کے گناہوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ کوئی جماعت اس کو اپنے کندھوں پر نہیں لادے گی۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حکومت لانگ مارچ کے نتیجے میں بھونچال سے بچنا چاہتی ہے تو پھر مولانا فضل الرحمان کے مطالبات تسلیم کرلے، سیاسی بھونچال سے پاکستان کو بچا لیا جائے۔عمران خان کو چاہیے کہ نئے الیکشن کی راہ ہموار کردیں، تاکہ پاکستان جو پہلے ہی خارجی محاذ پر الجھا ہوا ہے، سرحدی معاملات نازک مراحل سے گزر رہے ہیں ، معیشت کا توبیڑا ہی غرق ہوگیا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ منتخب حکومت آئے اور ملک کو بحرانوں سے نکالے۔ پرویز رشید نے کہا کہ 2020ء نئے انتخابات کا سال ہے، اگر اگلے سال انتخابات نہیں کروائے جاتے اور جبراًروکنے کی کوشش کی جاتی ہے توپھر میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *