تازہ ترین
ہوم / پاکستان / بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش کیا تھی، ایک سال بعداہم بات سامنے آگئی

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش کیا تھی، ایک سال بعداہم بات سامنے آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بیگم کلثوم نواز کی برسی کے موقع پر سینئرکالم نگار عمار مسعود نے اپنے حالیہ کالم میں بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش کا تذکرہ کر دیا اور ان کے آخری ایام میں ان کے احساسات و جذبات سے متعلق بھی تفصیلاً بتایا۔ کالم میں عمار مسعود نے لکھا کہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے۔” لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت

جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔ آخری دنوں میں کلثوم نواز میں جب بھی سکت ہوتی تو وہ خود بھی کبھی موبائل ہاتھ میں لے کر”باؤ جی” کو کال کرنے کی کوشش کرتیں مگر کوئی جواب نہیں آتا۔اس خدشے کے پیش نظر کہ ان کو گرفتاری کا علم نہ ہو جائے اور اس حالت میں ان کو مزید تکلیف پہنچے ان کے موبائل اور آئی پیڈ سے انٹرنیٹ کا کنکشن ختم کر دیا گیا تھا۔ اس صدمے سے بچانے کے لئے ان کے کمرے کے ٹی وی کا کنکشن بھی اتار دیا گیا تھا۔ لیکن کلثوم نواز کو دھڑکا تو لگا ہوا تھا۔ وہ ہر کسی سے پوچھتیں کہ ”تم لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو۔” ایک دن انہوں نے اپنی پرانی آیا سے بھی دریافت کیا کہ ”تم ہی مجھے اصل بات بتا دو۔مجھے لگتا ہے یہ سب مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔ ” لیکن کسی نے ان کو یہ صدمہ نہیں پہنچایا۔ وہ ہوش میں آتیں تو سوال ضرور کرتیں ”باؤ جی کا فون آیا، مریم کی کال آئی” لیکن اسی جواب کے انتظار میں گیارہ ستمبر کو ان کی زندگی کا سانس سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ عمار مسعود کا کہنا ہے کہ اس بات کو 365 دن گزر چکے ہیں مگر جیل میں قید نواز شریف اب بھی اپنی والدہ سے پوچھتے ہیں ”امی جی کلثوم کو گئے ایک سال ہو بھی گیا؟“ ہر آنے جانے والے کے ساتھ وہ یہی ذکر کرتے ہیں۔اس خیال سے رنجیدہ رہتے ہیں۔ یہی غم ان کو ستائے رکھتا ہے۔ ان کو سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ آخری لمحوں میں وہ اپنی وفا شعار بیوی کے ساتھ کیوں نہیں تھے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ”کلثوم کو پتہ بھی نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں قید ہیں۔” اس غم سے نکلتے ہیں تو اب ہر ایک سے مریم نواز کی صحت اور سلامتی کی بابت ضرور پوچھتے ہیں۔ نواز شریف بس یہی سوچتے رہتے ہیں کہ کلثوم آخری لمحوں میں ان کو نقاہت کے باوجود باؤ جی، باؤ جی آوازیں دیتی رہیں اور وہ بات نہیں کرسکے۔ وہ ہاتھ نہیں پکڑ سکے۔ وہ دلاسا نہیں دے سکے۔ اور ایسا خاموش شخص جس کے پاس گنوانے کے لئے کچھ نہ ہو بہت خطرناک ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *