ہوم / علاقائی / دو اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کاشکار طالبہ کی خودکشی کی کوشش

دو اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کاشکار طالبہ کی خودکشی کی کوشش

جامشورو(نیوز ڈیسک) لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں طالبہ نے خودکشی کی کوشش کی تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہی۔شعبہ فارمیسی کی طالبہ سائرہ نے دو اساتذہ پر حراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیچر شفقت رضوی اور ان کا دوست ٹیچر احسان میمن امتحانات میں پرچے آؤٹ کرنے کے معاملے پر اسے ہراساں کرتے ہیں اور کلاس میں تنگ کرتے ہیں۔طالبہ سائرہ نے کہا کہ ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ (شعبہ کی سربراہ ) ناہید میمن کو کئی بار اس حوالے سے شکایت کی مگر انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی انضباطی کارروائی کی۔ سائرہ کا کہنا تھا کہ مسلسل ہراسانی سے تنگ آکر اس نے خودکشی کی کوشش کی۔لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے معاملے پر 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے جو ایک ہفتے میں انتظامیہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں اس سے قبل بھی اساتذہ کی طرف سے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ کالج میں طالبات نے بیالوجی کے ایک استاد پر دوران امتحان جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔۔کالج کی ایک طالبہ نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کے بیالوجی کے پروفیسر نے پریکٹیکل کے دوران ان سے غیر اخلاقی گفتگو کی اور جنسی ہراساں کیا جس پر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔طالبہ نے لکھا کہ جب میں اپنا پریکٹیکل دینے جا رہی تھی تو مجھے میری ساتھیوں نے خبردار کیا تھا کہ ممتحن ٹھیک نہیں ہیں یہ لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں اس طرح کے واقعات رپورٹ ہونا افسوسناک ہے ایسے میں تعلیمی اداروں کو ایسا نظام بنانا چاہئیے جس میں تمام استادوں کی سخت نگرانی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *