ہوم / پاکستان / شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین میں صلح ہو گئی، دونوں رہنمائوں نے گلے مل کر تمام اختلافات بھلا دیئے

شاہ محمود قریشی اورجہانگیر ترین میں صلح ہو گئی، دونوں رہنمائوں نے گلے مل کر تمام اختلافات بھلا دیئے

لودھراں(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان ایک طویل عرصے بعد صلح ہو گئی ۔تفصیلات کے مطابق لودھراں میں جہانگیرترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب شاہ محمود قریشی کیساتھ کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہم دونوں مل کر پاکستان تحریک انصاف کیلئے کام کرینگے ،جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ حج پر جانے سے پہلے شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی تھی جہاں ہم دونوں گلے ملے،ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور میرا دل اب مکمل طور پر صاف ہے۔واضح رہے ماضی میں جہانگیرترین کی حکومتی اجلاسوں میں

شرکت پر شاہ محمود قریشی ناراض تھے جس کی آواز انہوں نے میڈیا پر بھی اُٹھائی تھی ،بعد ازاں وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے تنازع میں کابینہ ارکان کو بیان بازی سے روک دیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین اور پارٹی کے نائب صدر اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان اختلافات کی خبریں کافی عرصے سے سامنے آرہی تھیں۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر 15 دسمبر 2017 کو فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جہانگیر ترین کو اسمبلی کی رکنیت اور کسی بھی سرکاری اور پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد بھی جہانگیر ترین کابینہ اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے تھے جس پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی تھی۔پارٹی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھنے پر (ن) لیگ کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے مخالفین کو موقع دے رہے ہیں اور کارکن ذہنی طور پر اسے قبول نہیں کر پا رہے جب کہ (ن) لیگ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں تو اور کیا ہے۔بعد ازاں وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے تنازع میں کابینہ ارکان کو بیان بازی سے روک دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *