آنحضور ﷺ کی پیش گوئیاں اور ہمارا معاشرہ! ملک شفقت اللہ

مفہوم حدیث ِ نبوی ﷺ حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ اسلام کی کڑیاں ضرور ایک ایک کر کے ٹوٹیں گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی کو پکڑ لیں گے۔ ان میں سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلامی نظامِ عدالت کی کڑی ہو گی اور سب سے آخری کڑی نماز ہو گی ۔یعنی مسلمان جس چیز کو سب سے پہلے چھوڑیں گے وہ اسلامی عدالتی نظام ہو گا ۔ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی امانت ہو گی۔ قرآنی آ یت کا مفہوم ہے کہ اللہ متعال فرماتے ہیں ’’بے شک ہم نے امانت کو زمین و آسمان اور پہاڑوں کو پیش کیا پر انہوں

نے اسکا بار اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور اس کو انسان نے اٹھا لیا ‘‘۔ یعنی حقوق ، فرائض اور حدود اللہ یعنی اسلام کے عدالتی نظام سے متعلق احکامات ۔اور یہ سب اسلامی خلافت کے تحت صحیح طور پر انجام پاتے ہیں ۔چنانچہ پہلی چیز جو اس امت سے اٹھے گی وہ خلافت ہو گی جب خلافت اٹھ جائے تو اسلامی عدالتی نظام بھی ختم ہو جائے گا اور آخری ٹوٹنے والی کڑی نماز کی ہو گی۔ آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر قائم رہنے والے کی حالت اس شخص کی طرح ہو جائے گی جس نے انگارے کو اپنی مٹھی میں پکڑ رکھا ہو ۔دنیاوی اعتبار سے زیادہ نصیبہ ور وہ شخص ہو گا جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا والد بھی کمینہ ہو ،لیڈر بہت اور امانت دار کم ہوں گے، قوموں اور قبیلوں کے لیڈر منافق ،رذیل ترین اور فاسق ترین ہونگے۔بازاروں کے تاجر فاجر ہوں گے ،محافظوں (پولیس) کی کثرت ہو گی ، بڑے عہدے نا اہلوں کو ملیں گے،لڑکے حکومت کرنے لگیں گے،تجارت بہت پھیل جائے گی یہاں تک کہ عورت تجارت میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی ،مگر کساد بازاری ایسی ہو گی کہ نفع حاصل نہ ہو گا ،ناپ تول میں کمی کی جائے گی ۔لکھنے کا رواج بہت بڑھ جائے گا ،مگر تعلیم محض دنیا کیلئے حاصل کی جائے گی ،قرآن کو گانے باجے کا آلہ بنایا جائے گا ،ریاء ،شہرت اور مالی منفعت کیلئے قرآن گاگا کر پڑھنے والوں کی کثرت ہو گی۔ فقہاء کی قلت ہو گی ، علماء کو قتل کیا جائے گا اور ان پر ایسا سخت وقت آئے گا کہ وہ سرخ سونے سے زیادہ اپنی موت پسند کریں گے، اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔ (ترمذی ص ۴۵،ج ۲)۔امانت دار کو خائن اور خائن کو امانتدار کہا جائے گا، جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا،اچھائی کو برا اور برائی کو اچھا سمجھا جائے گا۔اجنبی لوگوں

سے حسن سلوک کیا جائے گا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کئے جائیں گے۔بیوی کی اطاعت اور ماں باپ کی نافرمانی ہو گی۔مسجدوں میں شوروشغب اور دنیاں کی باتیں کی جائیں گی ،سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جائے گا۔طلاقوں کی کثرت ہو گی ،نیک لوگ چھپتے پھریں گے اور کمینے لوگوں کا دور دورہ ہو گا، لوگ فخر اور ریاء کے طور پر اونچی عمارتیں بنائیں گے۔ (ترمذٰ ی ص ۴۵، ج ۲)۔شراب کا نام نبیذ ، سود کا نام بیع اور رشوت کا نام ہدیہ رکھ کر انہیں حلال سمجھا جائے گا ،سود ، جوا ، گانے باجے کے آلات ،شراب خوری اور زنا کی

کثرت ہو گی ،بے حیائی اور ناجائز اولاد کی کثرت ہو گی، دعوت میں کھانے پینے کے علاوہ عورتیں بھی پیش کی جائیں گی۔ ناگہانی اور اچانک اموات کی کی کثرت ہو گی ۔لوگ موٹی موٹی گدیوں پر سواری کر کے مسجدوں کے دروازوں تک جائیں گے، ان کی عورتیں کپڑے پہنے ہونگی لیکن وہ ننگی ہونگی، ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے ،لچک لچک کر چلیں گی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی، یہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اسکی خوشبو پائیں گی۔ مؤمن آدمی لوگوں کے نزیک باندی سے بھی زیادہ رذیل ہو گا ، مؤمن ان کی برائیوں کو دیکھے گا مگر انہیں روک نہ سکے گا، جس کے باعث اس کا دل اندر ہی اندر گھلتا رہے گا، فتنے بہت ہونگے۔(بخاری ص ۱۰۵۵، ج۲)

مذکورہ بالا بیان کردہ قرب قیامت کی تمام نشانیاں آج اپنے اوجِ کمال پر ہیں ۔فتنہ تاتاری کے بعد خلافت مسلم دنیا سے آہستہ آہستہ بالترتیب ختم ہو تی گئی اور نام نہاد جمہوریت نے جنم لے لیا ، جس کو آج ہم بھگت رہے ہیں ۔عدالتی نظام شرعی نہیں رہا اور لوگوں کو مال کی بنیاد پر افضلیت ملنے لگی ہے ، ہمسائے بھوکے سو جاتے ہیں اور ہمیں کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی ،عزیز و اقارب مفلسی کی زندگی جیتے ہیں اور ہم دنیاوی دکھلاوے ، فضولیات اور خود کی تزین و آرائش میں مگن ہیں ،فرائض کو پرانا فیشن کہنا شروع کر دیا اور اگر کوئی اس کی ترغیب

و تبلیغ کرے تو اسکی تذلیل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔حدود اللہ جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی چھپی ہے سے تجاوز کرتے ہیں اور ہر وہ کام کرتے ہیں جو نفس کو پسند ہے ،خلافت پر آخری وار بھی کیا جا چکا ہے ،ابلیسی طبقہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے ۔عرب ممالک جہاں خلافت باقی رہ گئی تھی اب وہاں بھی جمہوریت کے نعرے سنائی دینے لگے ہیں ،کوئی شریف اور شرعی زندگی گزارنے والا شخص عوامی نمائندہ نہیں بن سکتا ، اول تو وہ دور بھاگتے ہیں اگر کوئی آواز اٹھائے بھی تو دبا دی جاتی ہے ۔بڑے بڑے عہدوں پر قادیانی اور

نا اہل فاسق براجمان ہیں ،جنہیں مسلم امہ کی سالمیت سے کوئی سرو کار نہیں ۔نوجوان طبقہ سیاست میں حصہ لے رہا ہے ، اور وہ حکومت بناتے بھی نظر آرہے ہیں ۔عورتوں کی تعداد بازاروں میں مردوں سے کہیں گناہ ملتی ہے یہاں تک کہ تجارت کرتی نظر آتی ہیں ۔سود سے آج ملک پاکستان کا ہر شخص لپٹا پڑا ہے کیونکہ حکمرانوں نے انہیں اس نحوست میں لپیٹ دیا ہے ۔مساجد کے باہر بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی نظر آتیں ہیں ۔ حادثات کی تعداد بے پناہ حد تک بڑھ چکی ہے والدین کی نا فرمانی اور بیوی کی اطاعت کی مثالیں ہمیں ہر قدم ملتی ہیں ۔آج کسی کو

نیکی کی بات بتانا بھی اس معاشرے میں ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔ آج ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں عورت کی عریانی اور اس کے جسم کی نمائش کو عزت کا درجہ دیا جاتا ہے ،جبکہ پردے کی تاکید کرنے والے کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ عورت کی عزت و تقدس پردے میں ہے نا کہ جسم کی نمائش کر کے ۔ برائی ہم میں اتنی سرایت کر چکی ہے کہ ہم برائی کو برائی نہیں سمجھتے ، حکمرانوں کی لوٹ مار ، چوری ، استحصال کے بارے ہر شخص با خبر ہے لیکن آنکھیں بند کئے ہوئے ہے ۔معاشرہ اسی ڈگر پہ چلتے چلتے تباہی و بربادی کو اپنا مقدر بنا رہا ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں