یہ چیزیں دل کی اچھی صحت کیلئے ضروری ہیں

خون میں فاسفیٹ مقدار میں کمی بیشی خون کی شریانوں کے مسائل کی وجہ بن کر امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کے باعث بن سکتی ہے۔سرے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ فاسفیٹ جسم کے لیے انتہائی اہم منرل ہے جو کہ خون کی بائیو کیمسٹری کو ریگولیٹ کرتا ہے اور دل کے افعال پر اثرانداز ہوتا ہے، اسی طرح یہ جسمانی ٹشوز کو آکسیجن پہنچانے والے سرخ خلیات کے لیے بھی اہم ہے اور عام طور پر گوشت، چکن اور مچھلی وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ہارٹ اٹیک یا سینے میں جلن کے درمیان فرق :تحقیق میں بتایا گیا کہ

خون میں اس کی سطح میں کمی یا اضافہ امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے اور دل کی صحت کے لیے اسے متوازن رکھنا ضروی ہے۔اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد مریضوں کا پانچ سے نو سال تک جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ ان کے خون میں اس جز کی سطح کیا ہے جبکہ اس کے دل کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ اس جز کی زیادہ مقدار بھی دل کے لیے تباہ کن ہے جبکہ کم مقدار بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ اس جز کی صحت کے لیے اہمیت کے حوالے سے جائزے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ اس جز کی کمی یا زیادتی امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ بڑھاتی ہے اور اس حوالے سے غذائی انتخاب اس کی سطح متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پلوس ون میں شائع ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں