’’قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتا ہوں‘‘ بالآخر رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کردیا

فیصل آباد(آن لائن)صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ میں قادیانی کو غیر مسلم سمجھتاہوں اور عقیدہ ختم نبوت ہرمسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور جو مسلمان بشمول میرے عقیدہ ختم نبوت پر ایمان یقین نہیں رکھتا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ، وضاحت کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے جو بھی مجھ سے بات کریگا میں اس کے سامنے وضاحت کردونگا ‘ ہمارے سیا سی مخالفین پیر حمید الدین سیالوی ‘ان کی گدی کو ‘انکے آستانہ کو اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں،میرا استعفیٰ تو یہ ساڑھے4 سال سے

مانگ رہے ہیں‘ میں ان کی خواہش سینٹ کے الیکشن کے بعد پوری کر دوں گا اور اپنے استعفے کی 100 کاپیاں کروا کر ان سب کو بھیج دوں گا‘ ایک پنڈی کا شیطان ہے جو چالیس سے شروع ہوا‘پھر پنتالیس پر آیا ‘ساٹھ پر آیا پھر 80پر آگیا اس کو شرم آنی چاہیے اور اس ڈھیٹ کو ڈوب مرنا چاہیے تھا ، ہماری قیادت کو سب علم ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو اس ملک کی ترقی نہیں چاہتی اور چار سال سے کبھی دھرنے‘ کبھی استعفے‘ کبھی لاک ڈاؤن‘ کبھی احتجاج اور مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت کو ناکام کرنا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کہ میں اس چیز کو ہر جگہ پر کہنے کو بھی تیار ہوں اور اس پر عمل بھی کرتا ہوں لیکن کوئی اگر یہ کہے کہ میرے پاس آؤ یا میرے حضور حاضر ہو اور وہاں پر آکر آپ یہ کہیں یا اس طرح سے کہیں ‘آپ کلمہ پڑھیں ‘ہم تووہ لوگ ہیں جو ہر وقت کلمے کا ورد کرتے ہیں اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ جب ہم مریں تو اللہ تعالیٰ ہمارے لبوں پر (کلمہ شریف ) کاورد جاری ہو‘ہم تو وہ لوگ ہیں لیکن اگر کوئی اس طرح سے بات کرتا ہے تو وہ کلمے کامذاق اڑاتا ہے ‘وہ عقیدہ ختم نبوت کامذاق اڑاتا ہے میں اس مذاق کا حصہ بننے کیلئے تیا رنہیں ہوں ‘حاضری اور سجدہ صرف اللہ کے سامنے ہو سکتا ہے ‘میں پیروں کی بڑی عزت کرتا ہوں ‘میں درگاہوں ‘درباروں پر جاتا ہوں ‘میں داتا صاحب حاضری دیتا ہوں ‘میں پاکپتن جاتا ہوں ‘مجھے کسی اور جگہ جانے میں بھی عار نہیں ہے ‘لیکن سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے ہے اور پیشی بھی رو ز محشر اللہ تعالیٰ کے حضور ہی پیش ہونگے ‘انسانوں کے سامنے پیش ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی انسان ایسا ہے جس کے سامنے پیش ہو ا جاسکے ‘انہوں نے کہاکہ‘ایک

مثال ہے کہ جو سو یا ہوا ہو اسے جگایا جاسکتا ہے لیکن جو جاگتا ہی سویا ہوا ہو اسے کون جگائے گا ‘اگر کسی کوئی تحفظات ہیں یا کوئی ابہام ہے تو وہ دور کرنے کیلئے ہم تیار ہیں ‘ہم سیاسی لوگ ہیں ہم اپنے قول ‘بات‘ہر سوال کیلئے جوابدہ ہیں اور ہم ہر کسی کے پاس جانے کیلئے بھی تیار ہیں ‘جس آدمی کے پاس اس کے گھر کے ووٹ بھی نہ ہوں اس کاصرف اپنا ووٹ ہو ہم تو اس کے پاس بھی چلے جاتے ہیں ‘یہ کسی کے پاس جانے یا نہ جانے کی بات نہیں تھی ‘بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو اس انداز میں بلائیں کہ اس سے اس کی ہتک ہو اور اس کی

عزت میں فرق آئے تو عزت تو لوگوں کو مال دولت سے پیار ہوتی ہے ہمیں تو عزت جان سے بھی پیاری ہے اور ایسی بات میں کسی صورت قبول نہیں کرونگا‘اگر پیر سیالوی صاحب مجھے فون کرتے مجھے کہتے کہ رانا ثناء اللہ صاحب میں نے یہ بات سنی ہے اور اس میں مجھے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے تو آپ تشریف لائیں تو اس پر میں اپنی مرضی سے بھی جاسکتا تھا وہ مجھے عزت سے بلاتے تب بھی میں جاسکتا تھا ‘لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ استعفیٰ جیب میں ڈالو اور یہاں آکر ایسے کرو ویسے کرو پھر میں فیصلہ کرونگا تو ایسے رویئے کو میں نے

زندگی میں کبھی قبول نہیں کیا ہے اور نہ کرینگے یہ بات ہمارے خون میں ہی شامل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پیر حمید الدین سیالوی بہت بزرگ آدمی ہیں اور ان کی کافی عمر ہو چکی ہے اوربعض سیاسی قوتیں اور بعض دوسری قوتیں ان کو اس مقصد کیلئے استعمال کرناچاہتی ہیں ‘آپ کانفرنس کے سٹیج پر بیٹھے لوگوں کو دیکھیں جب پیر صاحب خطاب کررہے تھے ‘ان کے سامنے جو بندہ مائیک لیکربیٹھا تھا اس کا نام ملک اسماعیل سیلا جو پہلے چار مرتبہ مجھ سے الیکشن ہا ر چکا ہے ‘پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اور اب پانچویں مرتبہ ہارے گا‘پی ٹی آئی

کے ٹکٹ پر ‘اور جیسے جیسے پیر صاحب کہہ رہے تھے کہ میں غیر سیاسی بندہ ہوں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ویسے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا‘شہر سے پی ٹی آئی کا واحد ایم پی اے خرم شہزاد بھی وہاں پرموجود تھا ‘پی ٹی آئی کا شیخوپورہ میں اپنا جلسہ تھا لیکن فرخ حبیب یہاں موجود تھا ‘پی ٹی آئی نے مل کر جلسہ بھرا ہے اور صاحبزادہ حامد رضا ہمار ا سیاسی مخالف ہے (ن) لیگ کیخلاف الیکشن لڑتا ہے اور انہیں 2013ء میں ن لیگ نے شکست دی ‘وہ کہتا ہے میں لاہور آؤنگا وہ آئے لاہور ہم اسے خوش آمدید کہیں گے لیکن وہ

ہمارا سیاسی مخالف ہے اس کا ختم نبوت سے کیا تعلق ہے ‘دوست محمد کھوسہ کو کرپشن اوربازار حسن کی خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں اسے حکومت سے نکالا گیا تھا وہ آج ختم نبوت کا ماما بنا بیٹھا ہے یہ سیاسی لوگ ہیں یہ پیر حمید الدین سیالوی ‘ان کی گدی کو ‘انکے آستانہ کو اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور ہم کوشش کرینگے کہ یہ اس میں کامیاب نہ ہوں انہوں نے کہاکہ پہلے یہ بات تھی کہ 80لوگ ووٹ نہیں ڈالیں گے جس دن بل پر ووٹنگ ہونا تھی ‘وہ تعداد 80سے کم ہو گئی ‘پنڈی کے شیطا ن کو شرم آنی چاہیے

‘پنڈی کا شیطان چالیس سے شروع ہوا‘پھر پنتالیس پر آیا ‘ساٹھ پر آیا پھر 80پر آگیا‘اب اس کے بعد اس دن جو ان سے ہوئی ہے اس ڈھیٹ کو ڈوب مرنا چاہیے تھا ‘لیکن ان لوگوں کوکوئی شرم نہیں آتی ‘نہ یہ شرم سے ڈوب مرتے ہیں اور نہ ان میں سچ بولنے کا کوئی مادہ ہے‘ پہلے وہ خاموش رہا اور جب کوئی اور بات ملے گی وہ بولنا شروع ہو جائے گا۔ اسی طرح یہ پہلے کہتے تھے کہ 40 استعفے آئیں گے‘ 40 سے یہ پھر 18 اور پھر 15 پر آ گئے اور اب 15 سے 2 پر آ گئے‘ پھر بھی میں کہتا ہوں کہ دو استعفے بھی ہونے نہیں‘ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ کچھ

قوتیں ایسی ہیں جو کہ سینٹ کے الیکشن سے پہلے حکومت ختم کرنا چاہتی ہیں تاکہ مسلم لیگ (ن) اکثریت نہ حاصل کر سکے‘ انہوں نے کہا کہ جب میں اپنی پارٹی اور حکومت کو فرنٹ فٹ پر آ کر ڈیفنڈ کرتا ہوں تو پھر میرے ساتھ ہی لوگوں نے ٹکرانا ہے‘ میرے سے ٹکرا کر کوئی آگے جائے گا تو پھر کسی سے ٹکرائے گا‘ میرا استعفیٰ تو یہ ساڑھے4 سال سے مانگ رہے ہیں‘ ساڑھے چار سال گزر گئے‘ دو‘ تین ماہ اور گزر گئے‘ میں سینٹ کے الیکشن کے بعد مارچ یا اپریل میں ان سب کی خواہش پوری کر دوں گا‘ میں وزیراعلیٰ سے اجازت لے کر جس دن

حکومت تحلیل ہونی ہے اس سے دو دن پہلے استعفیٰ دوں گا اور اس استعفے کی 100 کاپیاں کروا کر ان سب کو بھیج دوں گا‘ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ ہماری قیادت کو سب علم ہے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جو اس ملک کی ترقی نہیں چاہتی اور چار سال سے کبھی دھرنے‘ کبھی استعفے‘ کبھی لاک ڈاؤن‘ کبھی احتجاج اور مقصد صرف یہ ہے کہ حکومت کو ناکام کرنا ہے اور کبھی پانامہ اور کبھی اقامہ کے نام پر ملکی ترقی میں رخنے ڈالے جا رہے ہیں اور اب ختم نبوت کے نام پر کام شروع ہو گیا ہے‘ اس کے بعد ہم یہ سمجھیں کہ یہ گھر بیٹھ جائیں گے تو یہ

گھر نہیں بیٹھیں گے‘ کوئی نہ کوئی کرتے رہیں گے اور ہم ان کا کامیابی سے مقابلہ کرتے رہیں گے‘اب یہ سانحہ ماڈل ٹاؤن والی جو رپورٹ ہے یہ سمجھتے تھے کہ یہ کھلے گی تو کوئی بم پھٹ جائے گا‘ لیکن غیر جانبدار لوگوں نے تجزیہ کر کے اسے مسترد کر دیا ہے‘ مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے اور ہم بری ہو چکے ہیں اور اب رپورٹ پر تماشا لگایا جا رہا ہے‘ مصطفیٰ کمال جیسے لوگوں کو تمام پروگرام فیڈ ہوتا ہے یہ اپنے سے کچھ نہیں کر سکتے‘ جب تک تمام ادارے اپنے اپنے کام سے تعلق نہیں رکھیں گے اس وقت تک ملک میں ترقی نہیں ہو سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں