فرحت عباس شاہ ایک جدید غزل گو شاعر

لاہور( ڈاکٹر غافر شہزاد)غزل کی عمومی صورت حال کو اگر دیکھا جائے تو یہی کہا جاتا ہے کہ اس میں امکانات ختم ہو گئے ہیں، اب کوئی نیا اسلوب، موضوع کی نئی پرت یا پھر آہنگ کی کوئی نئی پیش کش ہی اس کو زندہ رکھے گی جس کا امکان فی الحال کہیں نظر نہیں آتا۔اس نئے آہنگ اور نئے اسلوب کی تلاش میں کئی شعرا نے اپنے آپ کو ضایع کر لیا مگر ان کی پہچان کے طور پر وہی شعر ان کے ساتھ چمٹے رہے جو انہوں نے اوائل عمری میں یا ربع صدی قبل کہے تھے۔ اب اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کے بارے میں سنجیدگی سے کبھی کام

نہیں ہوا۔ اس وقت انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ جب مشاعرے کی کسی نشست میں وہی شعر داد پاتا ہے کہ جو جدید غزل کی اس ڈکشن میں لکھا ہوتا ہے کہ جس کی عکاسی ہمیں نصف صدی تک فنون میں شایع ہونے والی غزلیات میں ملتی ہے۔ توکیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا چاہیے کہ اسی غزل کے آہنگ کے عروج کے زمانے میں سامعین کی ذہنی تربیت ہوئی تھی، اس لیے وہی موضوعات سامعین کے دل میں واہ کا سبب بنتے ہیں مگر حقیقت تو یہی ہے کہ اب تو اکیسویں صدی کے آغاز تک کئی نسلیں پروان چڑ چکی ہیں جن کی تربیت اس ذوق کی فضا میں نہیں ہوئی تھی۔ اس نسل کے شعرا کہ جو خود بھی الگ قسم کا اسلوب تشکیل دینے میں لگے ہوئے ہیں، انہیں خود بھی وہی موضوعات اور اس میں سے نکلے ہوئے معانی کے مختلف زاویے ہی دل کو کھینچتے ہیں۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں متعارف ہونے والے شعرا کے سامنے یہ چیلنج تھا کہ ان سے پہلے دودہائیوں سے جو جدید غزل کہی جا رہی تھی اس کا تاثر باذوق لوگوں اور خود شعرا پر اتنا گہرا تھا کہ اس کے اثر سے آنے والی نسل باہر نہیں نکل سکی۔ اگر چہ اس جدید غزل کے بڑے ناموں نے خود ہی اپنی غزل کے نقاد پیدا کیے اور ایسا ضابطہ تشکیل دیا کہ جو جدید غزل کی زلفیں سنوارنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا تھا مگر اس جدید غزل کی توانا روایت کے سامنے ۱۹۷۰ء کی دہائی میں غزل کہنے والی نسل نے بند باندھا اور پہلے مقامی ہندی اساطیر کی جانب رجوع کیا اور اس کے بعد ہند اسلامی تہذیب کی جڑوں کی تلاش میں عرب اور پھر نیل و فرات کی وادیوں میں جاپہنچے۔ اس سے نہ صرف موضوعات بدل گئے بل کہ زبان، استعارہ اور کنائے کے علاوہ تلمیحات بھی بدل گئیں۔غزل کا ایک نیا مزاج سامنے آیا مگر تہذیب و ثقافت کی غیر مانوسیت کے سبب یہ انداز عام قاری میں مقبول نہ ہو سکا اگر چہ

اس عہد کے شعرا نے زور غزل میں مارا۔آج بھی اس روایت کے شعرا اپنا انداز جاری رکھے ہوئے ہیں اور بدستور اس بات پر مصر ہیں کہ مستقبل کی غزل یہی ہو گی کہ جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔بیسویں صدی کے آخری نصف میں ان دو مختلف مزاجوں کی غزل کے سامنے ٹھہرنا اور اپنا آپ منوانا ۱۹۸۰ء کی دہائی کے شعرا کے لیے ایک چیلنج تھا جسے انہوں نے قبول کیا اور پھر جدید غزل کی روایت کو آ گے بڑھایا۔اس غزل کے نمائندہ شعرا میں فرحت عباس شاہ کا نام نہایت نمایاں ہے۔فرحت عباس شاہ کا ابتدائی تعارف اگر چہ لاہور میں ایک

ننجا ماسٹر کے طور پر ہوا کہ جو اپنی جسمانی قوتوں کا مظاہرہ کر کے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا تھا اور بھرے مجمع میں برف اور اینٹوں کے کئی بلاک ایک ہی وقت میں کہنی، ہاتھ یا ماتھے کی ضرب سے توڑ سکتا تھا۔اور جیسا کہ یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ جسمانی قوت صرف اعصاب تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے اپنی تمام ذہنی اور روحانی قوتوں کو ایک نقطے پر مرتکز کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس یکسوئی واستغراق کے بغیر آپ اپنے بدن میں پوشیدہ غیر معمولی قوتوں کو استعمال میں نہیں لا سکتے۔ اور سچ بات تو یہی ہے کہ

تخلیقی عمل کے لیے بھی اسی استغراق کی ضرورت پڑتی ہے۔انسانی تاریخ میں جتنے بھی غیر معمولی لوگ گزرے ہیں انہوں نے جسم اور روح کی قوتوں کے اتصال سے ہی غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے ہیں۔ اور یہ بات مارشل آرٹس کے شعبے میں مسلمہ ہے کہ قوت پنچ میں نہیں، ذہن میں ہوتی ہے۔ اگر آپ یہ سوچ لیں کہ آپ برف کے ان بلاکوں کو توڑ سکتے ہیں تو یہ یقین آپ کے اندر ایسی قوت کو بیدار کر دیتا ہے کہ واقعی آپ ایسا کر سکتے ہیں۔اسی یقین کو ساتھ لے کر فرحت عباس شاہ ادبی دنیا میں داخل ہوا۔اس کے پاس سائیکالوجی کی ماسٹر

ڈگری بھی تھی اور استغراق کی قوت کے ساتھ تخلیقی توانائیوں کا وفور بھی تھا۔ایسی صورت حال میں اس کا راستہ کون روک سکتا تھا۔نئی نسل میں ننجا ماسٹر کے طور پر وہ مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ چکا تھا اور نئی نسل کے دلوں میں گھر کر چکا تھا۔ یہی ننجا ماسٹر جب بغل میں شاعری دبائے اسٹیج پر اپنے عہد کے شعرا میں آن بیٹھا تو اپنے ہم عصروں کو وہ بہت پیچھے چھوڑ گیا۔اس کا ٹھکانہ پاک ٹی ہاؤس اور اس کی روزوشب کی مصروفیت شاعری، پہلے غزل اور پھر نظم، پہلے آزاد غزل اور پھر نثری نظم، گویا اس کے تخلیقی سوتے خشک

ہی نہ ہوتے تھے۔ چند ہفتوں کے بعد ایک نئی کتاب اور پھر اس کی نہ صرف اشاعت بل کہ اس کے دنوں میں ختم ہو جانے والے ایڈیشن کے بعد نئے ایڈیشن کی اشاعت، ان برسوں میں گویا ادبی اور تخلیقی دنیاکا وہ بے تاج بادشاہ بن گیا۔اس کی شاعری اور شخصیت کے اندر ایسا کیا کرزما تھا، اس کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ یہ بات طے تھی کہ وہ اپنے عہد کا مقبول ترین شاعر تھا، اس کی شاعری کی ریڈر شپ ابھی بھی موجود ہے اور اس کے سامعین کا ایک بڑا حلقہ ابھی بھی اسے شاعر کے طور پر دیکھنا اور سننا چاہتاہے۔ فرحت

عباس شاہ کی غزل کی مقبولیت کے اسباب تلاش کرنے کے لیے تو کافی وقت درکار ہو گا کہ اس نے سیکڑوں کی تعداد میں غزلیں لکھی ہیں اور بے شمار ایسی ہیں جو نہایت مقبول ہوئیں اور اشعار زبان زدِ عام ہوئے۔اس کی غزل کی اثر پذیری کے بنیادی اسباب میں ایک بڑا سبب وہ اداسی ہے جس نے اسے عمر بھر گھیرے رکھا۔ اس اداسی کا شام کے ساتھ بہت گہرا رشتہ بنتا ہے۔ فرحت شاہ کی اوائل عمری جھنگ کی شاموں اور راتوں کی خاموشی کے سر بستہ رازوں میں کہیں گم ہو گئی۔ چھوٹے شہروں کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان شہروں کے رہنے

والے اپنی صبح و شام اور اس کے درمیان گزرے وقت کو اپنی تمام شدتوں کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ خاص طور پر جب شام کا غروب ہوتا سورج آہستہ آہستہ اپنا آگ سا دہکتا چہرہ شام کے اندھیرے کی شال میں چھپا لیتا ہے، آنکھوں کے سامنے ٹھہرا ہوا منظر کم ہوتی ہوئی روشنی میں گم ہونے لگتا ہے تو ایک گہری اداسی حساس دلوں پر طاری ہو جاتی ہے۔ اس اداسی کو وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے چھوٹے شہروں میں ڈھلتی ہوئی شام کے تجربہ کو اپنے اندر اتارا ہو۔کس طرح سے اداسی کا یہ منظر نامہ منجمد ہو جاتا ہے، اس کی خنکی کس طرح ہڈیوں

میں سرایت کر جاتی ہے، اس کو الفاظ میں ڈھلتا ہوا وہی محسوس کر سکتا ہے کہ جس کا خود یہ تجربہ بنا ہو۔ فرحت عباس شاہ کی غزل ہو یا نظم ایسی ہی اداسی کی دبیز چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ ڈوبتا ہوا سورج اگر ایک جانب اداسی کے احساس کو طاری کرتا ہے تو دوسری جانب اس کے ڈوب جانے سے فنا کا قدیم تصور انسانی دل و دماغ کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ فنا کا یہ تصور فرحت عباس شاہ کی شاعری میں بیگانگی اور زندگی کی بے معنویت کو ساتھ لے کر جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہ وہی احساس ہے جسے وجودیت پرستوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے

بعد اپنی فنا کی حقیقت کے ساتھ قبول کیا اور پھر علم و ادب، فلسفہ اور تخلیقی علوم میں ایک نئی تحریک ابھری۔ ان عالمی جنگوں میں لاکھوں کی تعداد میں قتل کر دیے جانے والے انسانوں کا دکھ اتنا گہرا اور اس کی تہیں اتنی زیادہ اور گہری تھیں کہ اس سے پہلے حقیقت پسندوں کے محدود دامن میں بھرپور اور شدت کے ساتھ اس کے اظہار کی کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔عالمی جنگوں کے خمیر سے جنم لینے والی یہ تحریک بیسوں صدی کے نصف میں شروع ہوئی مگر اس کے اثرات ابھی تک تخلیقی ادب پر پڑ رہے ہیں۔ فرحت عباس شاہ نے ایک جانب

ننجا ماسٹر کے طور پر جسمانی قوتوں کا مظاہرہ کیا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا تو دوسری جانب روحانی سطح پر اس توانائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے تخلیقی وفور کو درست سمت عطا کی۔ اسے انسان کے فنا ہونے کا شدید احساس ہے، اس نے والد کی وفات کے بعد موت کے تجربے کو نہایت قریب سے محسوس کیا۔ اگر آپ کی زندگی میں ایک ہی شخص ہو اور موت آپ سے اس کو چھین لے، تو آپ کو یوں لگتا ہے کہ یہ ایک شخص کی موت نہیں تھی، کل جہان کی موت تھی۔ موت کے اس تجربے اور والد کی جدائی کے اس صدمے سے وہ باہر تو نکل

آیا مگر اس صدمے نے تخلیقی عمل کی صورت میں اظہار کی راہ پائی اور اداسی مستقل طور پر اس کے تخلیقی تجربے کا حصہ بن گئی۔ شعور کی رو میں بہتے ہوئے، اپنے حواس کو مجتمع رکھنا اور شعری ضابطوں کی پابندی کرتے ہوئے غزل کو اپنے دکھوں کے اظہار کا ذریعہ بنانا بذات خود فرحت عباس شاہ کے لیے کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ اس کے شعروں میں درد اتنی شدت سے موجیں مارتا ہے کہ جس طرح سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر شام کی تنہائی اور اداسی میں لہروں کا شور انسان پر ایک ناقابل بیان کیفیت طاری کرتاہے، ان دنوں میں

فرحت عباس شاہ ایسے ہی تخلیقی تجربے سے گزر رہا تھا۔ ا س نے اپنے دکھ اور تنہائی کو اداسی کے پتوں میں لپیٹ کر تخلیقی اظہار کا جو انداز اختیار کیا اس کا حساس دلوں کو متاثرکرنا یقینی تھا۔اس نے اپنے عہد کو متاثر کیا۔ اپنے سننے والوں کی دھڑکنوں کے زیرو بم میں اپنی غزلوں کی تال کو ہم آہنگ کر دیا۔ وہ جب مشاعروں میں اپنا کلام سنانے آتا تھا تو سامعین پر ایک اداسی اور سرشاری کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور وہ فرحت شاہ کے دکھ اور اداسی کے تجربے میں شامل ہو جاتے۔غزل کے محدود دامن میں جب اس کے تخلیقی وفور نے سمٹنے سے

انکار کر دیا تو وہ آزاد نظم اور پھر آزاد غزل کی جانب آ گیا۔ اس کا مسئلہ اظہار کا تھا، اس نے روایتی ضابطے توڑتے ہوئے نئے اسلوب اور نئی ہیت کو تراشا جو اس کی پہچان بنا۔اس کی غزلوں کی پہلی کتاب ’’شام کے بعد‘‘ اس کی پہلی محبت کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہی۔ اس نے ’’شام کے بعد‘‘ نام کے اشاعتی ادارے کی صورت میں بھی اسے ایک نئی زندگی دی اور اس کتاب میں محبت کے تجربے کی حدود کو آنے والے تخلیقی سفر کی وسعتوں میں پھیلا دیا۔ محبوب سے محبت اور پھر اس کی دائمی جدائی کی حدوں کو پار کرتے ہوئے جب وہ والد صاحب

کی بے وقت موت کے تجربے سے گزرا تو اسے احساس ہوا کہ حیات و کائنات کا سب سے پہلا اور آخری تجربہ یہی ہے، باقی سب کچھ اس کے درمیان آ جاتا ہے۔ والد کی وفات نے موت کے تجربے کی جزئیات سے اسے آگاہ کیا۔ مرنے والا تو سانس بند ہونے کے بعد مر جاتا ہے اور ایک اور عالم میں چلا جاتا ہے مگر اپنے محبت کرنے والوں کے دل و دماغ میں وہ قسطوں میں مرتا ہے، ہر روز اس کی یاد وں سے وابستہ کسی احساس کی موت ہو تی ہے۔ موت کا یہ عمل دنوں ، مہینوں اور برسوں پر پھیل جاتا ہے، موت کے اس طویل عمل سے گزرنے والا

ایک ایک پل کو محسوس کرتا ہے اور پھر اس کا اظہار کرتا ہے۔ موت ایک ایسی ناگزیر حقیقت ہے کہ جب دروازے پر دستک دیتی ہے تو دروازہ کھولنا پڑتا ہے،اور پھر اپنے پیاروں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص اپنی یادیں پیچھے چھوڑ کرکسی اور دنیا میں چلا جاتا ہے۔ فرحت شاہ انہی پس ماندگان میں تھا کہ جس نے فنا کے اس تجربے سے گزرتے ہوئے جدائی اور موت تک کا اذیت ناک سفراکیلے طے کرنا تھا۔ اگر اس نے اپنی تخلیقی تجربے کو اس کا حصہ نہ بنایا ہوتا، تو اس کاجسمانی وجود کب کا پھٹ چکا ہوتا۔یہ تو اظہار کی صورت تھی

کہ جس نے اسے زندگی سے محروم نہیں کیا۔ مارشل آرٹس نے اسے جسمانی اور تخلیقی تجربے نے اسے روحانی طور پر سلامت رکھا۔جدائی اور محرومی کے اس تجربے کا کینوس پھیلا کر اس نے اس کرہ ارض پر اذیت ناک زندگیاں بسر کرنے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دکھ کو بھی محسوس کیا۔ گویا یہ فرحت عباس شاہ کا ذات سے کائنات کی جانب، جزو سے کل کی جانب کا سفر تھا۔ایک جانب وہ ان لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دکھوں کے ساتھ وابستہ ہو گیا اور وریام کے ریڈیائی کردار کے ساتھ ان کے دکھوں کے اظہار کی زبان بن گیا اور

دوسری جانب اس نے فرض فاؤنڈیشن کے نام سے بلا سود قرضے کا ایک ادارہ شروع کیا۔اس نے اپنے تمام اثاثے غیر انسانی سطح پر زندگی گزارنے والوں کے نام کر دیے۔وہ چاہتا تو اپنے عہد کے باقی لوگوں کی طرح فرض فاؤنڈیشن کو کاروبار بنا کر اپنی دنیا سنوار سکتا تھا مگر اس نے تو فنا و بقا کے فلسفے کو سمجھنے اور انسانوں کے دکھوں ، ان کی تنہائیوں اور اداسیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محسوس کرنے کے بعد اس ادارہ کو تشکیل دیا تھا، بھلا وہ اپنے ہاتھوں خود کشی کیسے کر سکتا تھا۔وہ ایک جانب اپنے خونی رشتوں سے بندھا ہے، دوسری

جانب اس نے بنی نوع انسان سے دائمی رشتہ استوار کرنے کے بعد اسے نبھانے کا مشکل کام اپنے سر لے رکھا ہے، اس کی اداسی پھیل کر کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔کائنات میں بسنے والی ہر مخلوق کا دکھ اس کا دکھ بن چکا ہے، دنیا بھر کی اداسی پر اس کا اجارہ قائم ہو چکا ہے۔ یہ شام اور یہ اداسی اس کی ملکیت ہے، اور وہ اس ملکیت کا بے تاج بادشاہ کہ جسے اپنی سلطنت کو قائم رکھنے اور زندہ رکھنے کے لیے صدیوں کے دکھ اور ہزاروں کائناتوں کی اداسی کا ایندھن درکار ہے، اس لیے کہ جو تخلیق کار جتنا بڑا ہوتا ہے اس کے دکھ، اس کی تنہائی اور اس کی اداسی اتنی ہی گہری اور پرت در پرت ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر غافر شہزادکی یہ خصوصی تحریر روزنامہ انصاف میں 19 دسمبر 2017 کو شائع ہوئی )

اپنا تبصرہ بھیجیں