جنرل اسمبلی میں بھارت نے اسرائیل کی بجائے فلسطین کے حق میں ووٹ کیوں دیا، حقیقت سامنے آگئی، سشما سوراج نے بدلے میں کیا چیز مانگ لی

نئی دہلی(آن لائن)بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ میں بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے پر ٹویٹر میں شکریہ ادا کرنے والے بھارتی مسلمان رہنما کو بدلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ووٹ دینے کا مطالبہ کردیا۔آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے صدر ایم بدرالدین اجمل کی جانب سے اپنے ٹویٹ میں بھارت کے اقوام متحدہ میں بیت المقدس (یروشلم) کے حوالے سےامریکی فیصلے کے خلاف قدم پر شکریہ ادا کیا گیا تھا جس کے بعد سشما سوراج کا مطالبہ بھی سامنے آگیا۔

سشما سوراج نے بھی ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے جواب میں کہا کہ ‘اجمل صاحب! آپ کا شکریہ، اب آپ ہمیں ووٹ دیں’۔آسام سے تعلق رکھنے والے بدرالدین نے سشما سوراج کے ٹویٹ کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘میڈم! ہمارا ووٹ ہمیشہ انڈیا کے لیے ہے’۔بدرالدین اجمل نے اپنے جواب میں کہا کہ ‘جس دن بی جے پی اکثریتی اور اقلیتی برادری میں فرق نہیں کرتی تو ہمارا ووٹ آپ کے لیے ہوگا’۔بھارتی وزیرخارجہ اور بدرالدین کے ٹویٹر میں ایک دوسرے مکالمے کے بعد دیگر افراد پر اس گفتگو میں کود پڑے۔خیال رہے کہ بھارت میں ریاستی انتخابات ہورہے ہیں جہاں گجرات میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ ہفتے امریکا کی جانب سے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف قرارداد پیش کی گئی تھی جہاں بھارت سمیت 128 ممالک نے امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔اقوام متحدہ میں امریکی فیصلے کے خلاف ووٹ ایک ایسے وقت میں دیا گیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کی امداد کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔خیال رہے کہ ٹرمپ نے کئی دہائیوںسے متنازع رہنے والے حساس معاملے پر یک طرفہ فیصلہ کیا تھا جس کے بعد اسرائیل اور فلسطین سمیت خطے میں خون ریز احتجاج کا آغاز ہوا۔اسرائیل 1967 کی جنگ کے بعد یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے سفارت خانوں کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن عالمی برادری یروشلم پر اسرائیلی موقف کی مخالفت کر رہی ہے۔دوسری جانب فلسطینی مشرقی یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دے رہے ہیں جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔قبل ازیں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کے فیصلے خلاف ہونے والی قرار داد کو ویٹو کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں