اب نعرہ نہیں نعرے ہیں ۔۔۔ فرحت عباس شاہ

سیاست کا مقبول ترین نعرہ روٹی کپڑا اور مکان تھا کیونکہ اس وقت جب اس نعرے نے جنم لیا اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی عملی طاقت کامظاہرہ کیا تو ہر دل کی آواز ثابت ہوا۔ اور یہ نعرہ اس کے بعد آنے والی ہر سیاسی جماعت کے منشور کا لازمی جزو ٹھہرا۔ کیا آسان وقت تھا پیسہ کم تھا لیکن برکت تھی ۔ صبر ،قناعت ، سچائی ، دیانت ، خدمت سب قدریں موجود تھیں ۔ ایک دوسرے کا لحاظ تھا ، شرم حیاء تھی ،جوکہ اب صرف خواجہ آصف کے لب لعلیں کے علاوہ کہیں نظرنہیں آتی ۔لیکن آج اگرکسی کو روٹی کپڑا اور مکان نصیب ہے بھی تو بچوں کی تعلیم

کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ بیماری اتنی سستی ہوچکی ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارتی کی ہر پل کی دوڑ دھوپ کے باوجود ملاوٹ مافیا قابو میں نہیں آرہا ۔ علاج اتنا مہنگا ہوچکا ہے کہ غریب تو کیا چھوٹا موٹا خود کفیل انسان اپنے علاج کا سوچ کر لرز جاتا ہے اور جب تک گر نہ پڑے ہسپتال کا رخ نہیں کرتا اور اگر ہسپتال سے علاج کروا کے خیر سے واپس آ بھی جائے تو پھر معاشی نقاہت کا مارا مدتوں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہ جاتا ۔ انرجی نہ صرف مہنگی بلکہ ایسی کمیاب کموڈٹی ہوچکی ہے کہ لوگ پاکستان سے اپنا اپنا کاروبار سمیٹ کر دوسرے ممالک میں روٹی رزق کمانے کی سوچ رہے ہیں ۔ پاکستان میں امیر اور غریب کی تفریق سے زیادہ حاکم اور محکوم کی تفریق نے معاشرے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دئیے ہیں ۔ روٹی کپڑا اور مکان کیساتھ صحت ، تعلیم ، روزگار بھی شامل ہوچکا ہے بلکہ پانی ، بجلی اور گیس کا نعرہ شاید عہد حاضر کا ضروری ترین نعرہ ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ لاہور چیمبر آف کامرس میں آئے دن ہونے والےاکٹھ ، چھوٹے ،چھوٹے عارضی اور بے ضرر ۔۔۔۔ حکومتی لاروں پر منتشرہوجانے والےدھرنے اور کاروباری کمیونٹی کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی مایوسی آئے دن کے سیاسی بیانیوں کے سامنے کسی دلدوز پکار سے بھی کچھ زیادہ تکلیف دہ ہے ۔ مضبوط معیشت پوری دنیا کے بقا کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے لیکن ہمیں ابھی تک قدم قدم پر ثانوی درجے کے مسائل کو بنیادی بتا کر انہیں میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت آسمان کو چھونے لگے ، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جائے ، گیس ناراض ناراض سی لگے اور ٹیکسزز کی آری عوام کے جسموں میں کچھ اور اندر تک اتر جائے  اب سوائے لاہور چیمر آف کامرس کی قیادت کے کوئی بولتا نظر نہیں آتا ۔ پچھلے دنوں پٹرول کی

قیمت بڑھا کر جب ایک بار پھر ملکی معیشت کو ” سنبھالا ” دیا گیا تو لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ملک طاہر جاوید ، خواجہ خاور رشید سینئر نائب صدر اور ذیشان خلیل نائب صدر کے علاوہ کو چیخ بلند نہیں ہوئی خبر لگوانے والے سیاسی بیانات تو خانہ پری کے لیے ایک دو آ ہی جاتے ہیں ۔ لگتا ہے ملک سے اب خلوص اور درد مندی کی سیاست اور قیادت دونوں ہی رخصت ہوچکے ۔کیونکہ اب سوائے اس کے کوئی نہیں چیختا جسے خود ذاتی طور پر اور براہ راست زک نہ پہنچے ۔ خلوص اور درد مندی کو دیکھا جائے تو بابا جی کا مصرعہ اٹل ہے کہ ” جس تن لاگے ،سوتن جانے ، یا یہ مصرعہ کہ ،” جتنیاں تن میرےتے لگیاں تینوں اک لگے تے توں جانے ۔

(بشکریہ روزنامہ جناح)

اپنا تبصرہ بھیجیں