تازہ ترین
ہوم / اہم خبریں / ایک بار ہمیں بلاکرہماری بات سن لیں، میں سارے بچے ساتھ لانے کو تیار ہوں،قصور میں زیادتی کے شکار ایک بچے کا چیف جسٹس کے نام خط

ایک بار ہمیں بلاکرہماری بات سن لیں، میں سارے بچے ساتھ لانے کو تیار ہوں،قصور میں زیادتی کے شکار ایک بچے کا چیف جسٹس کے نام خط

لاہور(نیوز ڈیسک)قصور میں جنسی زیادتی کے شکار ایک بچے نے انصاف کے حصول کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے نام خط لکھ دیا۔تفصیلات کے مطابق2015میں ہونے والا قصور سکینڈل بھی بس کچھ عرصہ ہی توجہ کا مرکز بنا۔قصورمیں دو سال قبل 280بچوں سے زیادتی کی خبر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ان تمام بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر ان کی ویڈیوز بنائی جاتی اور بعد ازاں اسے نیٹ پر بیچا

جاتا تھا۔اور ان کی ویڈیوز بنا کر والدین کو بھیجی جاتی اور انہیں بھی بلیک میل کیا جاتا تھا۔اس واقعے کے بعد اس پر جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی تا ہم اصل ملزمان ابھی بھی آزاد ہیں۔اسی متعلق قصور وڈیو اسکینڈل کے متاثرہ بچے کا چیف جسٹس کے نام لکھا ہوا خط سوشل میڈیا پروائرل ہو رہا ہے جس میں قصور میں زیادتی کا نشانہ بننے والا دانش علی چیف جسٹس کے نام خط لکھتا ہے۔جس میں وہ کہتا ہے کہ میرا نام دانش علی ہے اور میں حسین خانوالہ قصور کا رہائشہ ہوں۔اور ویڈیو اسکینڈل میں خانوالہ کیس نمبر 190/15 کا وکٹم ہوں۔جناب عالی ہم بہت غریب لوگ ہیں اس کیس کی وجہ سے میرا اور میری طرح دوسرے غریب بچوں کو مستقبل خراب ہو گیا ہے۔اس زیادتی کی وجہ سے ہم اپنی پڑھائی جاری نہ رکھ سکے۔ٹرائل صحیح نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ملزمان بری ہو گئی ہیں۔وہ لوگ جو ویڈیو میں نظر بھی آتے ہیں ان کو بھی عدالت نے بری کر دیا ہے۔ملزمان آج بھی ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں۔جب یہ سارا معاملہ میڈیا پر آتا تو تمام این جی اوز اور ہمارے نام نہاد لیڈر مبین غزنوی اور ایڈوکیٹ لطیف سرا نے تعان کی یقین دہانی کروائی۔پر کسی نے بھی ہمارے ساتھ تعاون کی یقین دہانی نہ کروائی۔پنجاب گورنمنٹ نے بھی ہمارے ساتھ جو وعدے کیے ان میں سے ایک بھی پورا نہ کیا۔جس میں ہماری تعلیم، روز گار اور حفاظت شامل تھے۔آج بھی قصور کے لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں جس کی وجہ سے میں اور میرے جیسے دوسرے بچے قصور چھوڑ چکے ہیں۔آج بھی ہمیں قصور اور

گاؤں میں جان کا خطرہ ہے۔ابھی تک قصور میں زیادتی ہو رہی ہے۔اس ہفتے قصور میں زیادتی کے 4 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔جناب عالی میری گزارش ہے کہ ہمیں اچھی تعلیم اور اچھا روزگار دیا جائے۔جانب چیف جسٹس صاحب ہمیں آپ کے علاوہ کسی سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ایک دفعہ ہمیں بلا کر ہماری بات سن لیں۔میں سارے بچوں کو ساتھ لانے کو تیار ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *