درجنوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والارکشہ ڈرائیور گرفتار

لاہور(نیوز ڈیسک) آج کل اخبارات اور ٹی وی چینلز ایسی خبروں سے بھرے رہتے ہیں جن میں کسی وڈیرے، بیورکریٹ یا سیاست دان کی اولاد کی شرمناک کرتوتوں کا ذکر ہوتا ہے۔ ایسے بگڑے ہوئے امیر زادوں کی جانب سے کبھی تو اپنے مزارعین اور ملازمین کی بہنوں بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی غریب گھرانوں کی مجبور اور خواہشات کی ماری خواتین کو اپنے جال میں پھنسا کر اُن کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔تاہم جنوبی پنجاب کے علاقے راجن پور میں ایک ایسے رکشہ ڈرائیور کا انکشاف ہوا ہے جس نے رکشہ چلانے کے دوران ہی درجنوں کم عمر لڑکیاں اور خواتین اپنی ہوس کے جال

میں پھانس لیں اور پھر ان کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتا رہا اور ان سے پیسے بٹور کر عیاشی بھی کرتا رہا۔تاہم اس کے چنگل میں پھنسی ایک خاتون نے مسلسل جنسی استحصال سے تنگ آ کر پولیس سے رجوع کر لیا جس کے بعدتوقیر شاہ نامی اس رکشہ ڈرائیورکو گرفتار کر لیا گیا ۔پولیس کی تفتیش کے دوران اس کی شرمناک کرتوتوں کا بھانڈا پھُوٹ گیا اوربلیک میلنگ کا شکار کئی خواتین کو بھی سکون کا سانس لینا نصیب ہو گیا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ راجن پور میں خواتین کی غیر اخلاقی ویڈیوز کا معاملہ سامنے آیا تو اس سکینڈل کے اصل کرتا دھرتا رکشہ ڈرائیور توقیر شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ راجن پور کے تھانہ سٹی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملزم رکشہ ڈرائیور توقیرشاہ ایک عیاشی پسند آدمی ہے جو اپنی ہوس پُوری کرنے کی خاطرعلاقے کی معصوم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنساتا اور ویڈیوز بناتا تھا۔ملزم کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کر کے پیسے وصول کرتا تھا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم کے موبائل سے پولیس نے غیر اخلاقی ڈیٹا ریکور کیا گیا جبکہ ملزم کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ملزم کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ،ملزم کے موبائل سے مختلف اوقات کی 4 ویڈیوز برآمد کرلی گئی۔پولیس نے بتایا کہ دورانِ تحقیق ملزم کے موبائل سے تصویریں بھی ملیں، ملزم کے خلاف 376،384،509 اور 292ت پ تحت دفعات شامل ہیں۔